مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے بدھ کے روز اپنے سیاسی شعبے کے سربراہ اور رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ بیان کے مطابق، وہ ایک "بزدلانہ صہیونی حملے” میں شہید ہوئے جس کا ہدف ان کی رہائش گاہ تھی۔ اس وقت وہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نو منتخب ایرانی صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے موجود تھے۔
اسماعیل ہنیہ 23 مئی 1963 کو غزہ کے الشاطی پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین کو 1948 کی نکبہ کے دوران عسقلان سے زبردستی نکالا گیا تھا۔
انہوں نے 1987 میں اسلامی یونیورسٹی سے عربی ادب میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی، اور 2009 میں اسی جامعہ سے ڈاکٹریٹ مکمل کی۔
سیاسی سرگرمیوں کا آغاز
ہنیہ کی سیاسی سرگرمیاں غزہ میں اخوان المسلمون کے طلبہ ونگ "اسلامی بلاک” کے ذریعے شروع ہوئیں، جو بعد ازاں تحریک حماس کی بنیاد بنی۔ 1983 سے 1984 کے دوران وہ اسلامی یونیورسٹی کی طلبہ کونسل کے رکن رہے، اور اگلے برس کونسل کے صدر منتخب ہوئے۔
1989 میں اسرائیلی قابض افواج نے انہیں گرفتار کر لیا اور تین سال قید کے بعد لبنان-فلسطین سرحد پر واقع قصبے مرج الزہور میں جلاوطن کر دیا گیا، جہاں انہیں دیگر حماس رہنماؤں کے ہمراہ رکھا گیا۔
ایک سال بعد وہ غزہ واپس آئے اور اسلامی یونیورسٹی کے ڈین مقرر کیے گئے۔
1997 میں انہیں شیخ احمد یاسین (بانیِ تحریک حماس) کے دفتر کا سربراہ مقرر کیا گیا، جو اس وقت اسرائیلی قید سے رہائی کے بعد واپس آئے تھے۔ بعد ازاں 2004 میں سابق رہنما ڈاکٹر عبدالعزیز رنتیسی کی شہادت کے بعد ہنیہ کو غزہ میں تحریک کا قائد منتخب کیا گیا۔
دسمبر 2005 میں انہوں نے "تبدیلی و اصلاح” کے نام سے انتخابی فہرست کی قیادت کی، جو 2006 کے دوسرے فلسطینی پارلیمانی انتخابات میں اکثریتی کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ اس کامیابی کے بعد 16 فروری 2006 کو انہیں فلسطین کے وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا، اور 20 فروری کو باقاعدہ طور پر منصب سنبھالا۔
مئی 2017 میں انہوں نے خالد مشعل کی جگہ تحریک حماس کے سیاسی دفتر کی قیادت سنبھالی۔
اسماعیل ہنیہ متعدد بار اسرائیلی سیاسی قتل کی سازشوں کا نشانہ بن چکے تھے۔ 2003 میں اسرائیلی فضائی حملے میں انہیں دیگر مزاحمتی رہنماؤں کے ہمراہ نشانہ بنایا گیا، جب القسام بریگیڈ کے ایک شہادت پسند حملے کے بعد اسرائیلی کارروائی کی گئی۔
عملیہ طوفان الاقصیٰ
جب 7 اکتوبر کو حماس نے آپریشن "طوفان الاقصیٰ” کا آغاز کیا، تو اسماعیل ہنیہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اپنے دفتر سے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ مسکراتے چہرے کے ساتھ ایک نشریاتی ویڈیو میں نمودار ہوئے۔ وہ شہید عزالدین القسام بریگیڈ کے مجاہدین کی کارروائیوں کی خبریں وصول کر رہے تھے، جب انہوں نے کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے دعا کی۔
10 اپریل کو ان کے چھ اہلِ خانہ، جن میں تین بیٹے اور کئی پوتے شامل تھے، اسرائیلی فضائی حملے میں اس وقت شہید ہوئے جب وہ عید الفطر کے موقع پر الشاطی پناہ گزین کیمپ میں خوشیاں منانے نکلے تھے۔
بعد ازاں 24 جون کو ان کے مزید دس رشتہ دار، جن میں ان کی بہن بھی شامل تھیں، ایک اور فضائی حملے میں شہید کر دیے گئے، جس میں ان کے گھر کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔
اس المناک موقع پر ہنیہ نے کہا کہ میرے خاندان کے تقریباً ساٹھ افراد شہید ہو چکے ہیں۔ وہ فلسطین کے دیگر بچوں کی طرح ہی ہیں؛ ان میں کوئی فرق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیلی یہ سمجھتے ہیں کہ مزاحمتی رہنماؤں کے بچوں کو نشانہ بنا کر وہ فلسطینی قوم کی حوصلہ شکنی کر سکتے ہیں، مگر ایسا ممکن نہیں۔
ہم فتح کا اعلان کرتے ہیں
اپنے شہید بچوں کی قربانی کے بعد ہنیہ نے کہا کہ میرے بیٹوں اور پوتوں کا خون فلسطینی بچوں سے زیادہ قیمتی نہیں۔ انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان پر یہ "اعزاز” نازل ہوا۔
2014 میں غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف اپنی ایک تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر تم ہم پر محاصرہ مسلط کرتے ہو تو ہم اسے فتح قرار دیتے ہیں۔ اگر تم سمجھتے ہو کہ اس سے غزہ کی حوصلہ شکنی ہو گی، تو جان لو کہ ہم صرف اللہ کے سامنے جھکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی قوم کا ہر فیصلہ ساز، خواہ وہ اندر ہو یا باہر، یہ بات سمجھ لے کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو موت سے محبت کرتے ہیں، جیسا کہ ہمارے دشمن زندگی سے محبت کرتے ہیں۔ ہم شہادت سے عشق کرتے ہیں، اپنے رہنماؤں کے نقشِ قدم پر، جیسے کچھ لوگ سیاسی عہدوں سے عشق کرتے ہیں۔ تمہیں تمام عہدے مبارک ہوں، ہمیں ہمارا وطن واپس دو۔

