تہران (مشرق نامہ) – ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان اور وزارت خارجہ نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ شہید اسماعیل ہنیہ کی پہلی برسی کے موقع پر اُن کی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فلسطینی مزاحمت کی حمایت کے عزم کو دہرایا اور غزہ میں اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی۔
صدر پزیشکیان نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے اس المناک واقعے کی سیاسی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ کو گزشتہ برس اسی دن تہران میں اس وقت شہید کیا گیا تھا جب وہ ایرانی صدارتی تقریب میں بطور سرکاری مہمان شریک تھے۔
انہوں نے لکھا کہ ایک سال قبل، میری صدارت کے پہلے دن، ہمارے سرکاری مہمان اور آزادی پسند بھائی اسماعیل ہنیہ کو صہیونی حکومت نے شہید کر دیا۔ اس حکومت کے غزہ، ایران اور خطے میں جنگی جرائم انسانیت کے لیے باعثِ شرم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایران کے دفاع اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت میں ثابت قدم ہیں۔ ہم اپنے شہید مہمان کی یاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
وزارت خارجہ: ہنیہ کی شہادت بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے بھی شہادت کی برسی پر ایک باقاعدہ بیان جاری کیا، جس میں شہید ہنیہ کو جنرل قاسم سلیمانی کے دیرینہ ساتھی اور خطے میں مزاحمتی تحریک کا اہم ستون قرار دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ اس عظیم شہید اور شہید جنرل قاسم سلیمانی کے پرانے ساتھی کی یاد کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور قائد انقلاب اسلامی، فلسطینی عوام، شہید ہنیہ کے خاندان، حماس تحریک، تمام مزاحمتی گروہوں اور دنیا بھر کے آزادی پسندوں کو مبارکباد اور تعزیت پیش کرتی ہے۔
وزارت خارجہ نے شہادت کو ایران کی قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ صدرِ ایران کی حلف برداری کی تقریب میں بطور سرکاری مہمان موجود اسماعیل ہنیہ کی شہادت ایک سنگین جرم اور بین الاقوامی قوانین، قومی خودمختاری اور اسلامی جمہوریہ ایران کی علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
مزید کہا گیا کہ شہید ہنیہ کا مشن فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کے ذریعے زندہ رہے گا۔
امریکہ اور بعض مغربی ممالک کی جانب سے صہیونی حکومت کو دی جانے والی مستقل عسکری و سیاسی حمایت نے ان ممالک کو ان جرائم میں شریک جرم اور شراکت دار بنا دیا ہے۔ فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی اور جنگی جرائم میں یہ ممالک بین الاقوامی سطح پر ذمہ دار ٹھہرتے ہیں۔
شہید اسماعیل ہنیہ کی یاد میں
غزہ کے الشاطیٰ پناہ گزین کیمپ سے اُبھرنے والے اسماعیل ہنیہ فلسطینی مزاحمت کی علامت بن کر سامنے آئے۔
1962 میں پیدا ہونے والے ہنیہ نے پہلی انتفاضہ کے دوران حماس میں شمولیت اختیار کی۔ انہیں "اسرائیل” نے کئی بار قید میں رکھا۔ بعد ازاں وہ حماس کے بانی رہنما شیخ احمد یاسین کے قریبی ساتھی بن گئے۔
2006 کے فلسطینی قانون ساز انتخابات میں حماس کی فتح کے بعد ہنیہ نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا اور 2006 سے 2017 تک عملی طور پر غزہ کے رہنما کے طور پر کام کیا۔
مئی 2017 میں وہ حماس کے سیاسی بیورو کے چیئرمین منتخب ہوئے اور قطر سے تنظیم کی خارجی سفارت کاری کی قیادت کی، جس میں "اسرائیل”، مصر اور قطر کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات شامل تھے۔
متعدد جنگوں اور ذاتی سانحات—جن میں ان کے کئی بیٹے اور پوتے اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے—کے باوجود وہ فلسطینی جدوجہد سے وابستہ رہے اور مسلح مزاحمت کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے سیاسی حقوق کے لیے بھی مسلسل آواز بلند کرتے رہے۔
ہنیہ کی زندگی، قیادت اور میراث فلسطینی مزاحمت کے سیاسی، سفارتی اور عسکری میدانوں میں ثابت قدمی کی روشن علامت ہے۔

