مشرق وسطیٰ (مشرق نامہ) – اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کے نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹیڈ چیبان نے غزہ کی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی عوام قحط کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
چیبان نے ایک میڈیا کانفرنس میں بتایا کہ ہمارے پاس اب دو ایسے اشارے موجود ہیں جو قحط کی حد سے تجاوز کر چکے ہیں۔ وہ حالیہ دنوں میں غزہ کے دورے کے بعد بات کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ اس وقت مکمل انسانی بحران کی گرفت میں ہے، جہاں ایک بڑی آبادی شدید غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت سے دوچار ہے، خاص طور پر بچے۔ ہر تین میں سے ایک شخص دنوں تک بھوکا رہتا ہے، اور غذائی قلت کا اشاریہ قحط کی حد سے تجاوز کر چکا ہے۔
عالمی دباؤ کے باعث کچھ امدادی ٹرک اور فضائی ذرائع سے خوراک و رسد غزہ بھیجی گئی ہے، تاہم ان کوششوں کو انتہائی ناکافی اور جزوی قرار دیا گیا ہے۔
چیبان نے زور دیا کہ غزہ میں امداد کی فراہمی کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کیا جائے۔ ہمیں ہر دروازے، ہر راستے اور ہر طریقے سے امداد پہنچانی چاہیے، لیکن فضائی گرانٹس سڑک کے ذریعے بڑے پیمانے پر رسد کی جگہ نہیں لے سکتیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ہدف یہ ہونا چاہیے کہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 500 ٹرک غزہ داخل ہوں، جن میں انسانی امداد کے ساتھ ساتھ تجارتی سامان بھی شامل ہو۔
یونیسیف کے مطابق تنظیم نے 1,500 ٹرک تیار کر رکھے ہیں، جو مصر، اردن اور ترکی کی سرحدوں پر امدادی سامان کے ساتھ اسرائیلی اجازت کے انتظار میں کھڑے ہیں۔
چیبان نے بتایا کہ پچھلے کچھ دنوں میں 33 یونیسیف ٹرک غزہ میں داخل ہو سکے ہیں، لیکن ’’یہ اب بھی درکار امداد کا محض ایک معمولی حصہ ہے۔ ہمیں ہر راستے، ہر دروازے سے امداد غزہ میں لانی ہوگی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ غزہ اس وقت شدید قحط کے خطرے سے دوچار ہے۔ ہر تین میں سے ایک شخص دنوں تک بغیر خوراک کے رہتا ہے، اور غذائی قلت کی شرح 16.5 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ آج 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد بچے شدید غذائی قلت کے خطرے میں ہیں۔
یونیسیف عہدیدار نے اسرائیلی محاصرے اور غزہ پر جاری نسل کشی کے نتیجے میں بچوں اور فلسطینی عوام کی حالتِ زار کو ’’غیر انسانی‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت غزہ میں سب سے اہم ضرورت مستقل جنگ بندی اور سیاسی حل کی ہے۔
حماس: غزہ میں نسل کشی بند کرانے کیلیے عالمی برادری دباؤ ڈالے
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تل ابیب پر دباؤ بڑھائے تاکہ غزہ میں ’’جارحیت، نسل کشی اور قحط کی جنگ‘‘ کو روکا جا سکے۔
جمعہ کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی میں ہمارے عوام آج بھی مکمل نسل کشی کی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں ان کے حوصلے کو توڑنے کے لیے بھوک اور قحط کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ محاصرہ جاری رکھنا، خوراک و ادویات کی فراہمی روکنا، راستے بند رکھنا اور بھوک سے بچوں اور مریضوں کی موت انسانیت کے خلاف ایسا جرم ہے جو کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔
حماس نے عرب و اسلامی اقوام اور دنیا کے آزاد عوام سے اپیل کی کہ وہ ہر جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو اسرائیلی قبضے، امریکہ اور ان کے حامی ممالک کے سفارتخانوں کے سامنے مظاہرے کریں اور مزاحمتی تحریک کو اس وقت تک جاری رکھیں جب تک جارحیت اور غزہ میں قحط ختم نہیں ہو جاتا۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم اتوار، 3 اگست کو غزہ، القدس، الاقصیٰ اور اسیران کی حمایت میں قومی، عربی، اسلامی اور عالمی دن کے طور پر منانے کی اپیل کرتے ہیں، اور اس دن کو غزہ کے عوام کے خلاف جاری نسل کشی اور قحط کی جنگ کے خاتمے اور مکمل آزادی تک مسلسل تحریک کے آغاز کے طور پر منایا جائے۔

