جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیرحمت کی بارش تلے یمن کے لاکھوں عوام کا غزہ سے اظہار...

رحمت کی بارش تلے یمن کے لاکھوں عوام کا غزہ سے اظہار یکجہتی
ر

صنعا (مشرق نامہ) – یمن کے دارالحکومت صنعا میں "غزہ و فلسطین کے ساتھ استقامت… فریب دہ معاہدوں کو مسترد کرتے ہیں” کے عنوان سے ایک تاریخی ملین مارچ منعقد ہوا، جس میں موسلا دھار بارش کے باوجود لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

یمنی عوام ہر سمت سے جمع ہوئے اور شہادت و جہاد کے راستے پر چلنے کا عہد دہراتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ فتح تک فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

یہ عظیم الشان اجتماع جارحیت، غرور اور استکبار کے خلاف ثابت قدمی، ارادے اور مزاحمت کے پیغام کا مظہر تھا۔ شرکاء نے دشمن کے چالباز منصوبوں اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف عوامی سطح پر بھرپور تیاری کا اعلان کیا۔

شرکاء نے عرب و اسلامی حکومتوں کی مسلسل مجرمانہ خاموشی پر شدید مذمت کی، جو غزہ میں جاری قحط، محاصرے اور مسلسل بمباری کے باوجود مجرمانہ چشم پوشی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

الصباحین اسکوائر یمن و فلسطین کے پرچموں، مزاحمتی نعروں اور شہداء کی تصاویر سے مزین تھی، جن میں سر فہرست شہید مجاہد اسماعیل ہنیہ کی تصویر نمایاں تھی، جنہیں ایک سال قبل صیہونی حملے میں شہید کیا گیا تھا۔

ملین مارچ نے اعلان کیا کہ دشمن گزشتہ دو برسوں کے دوران خونریز جرائم سے جو مقصد حاصل نہ کر سکا، وہ اب فریب کے ذریعے بھی حاصل نہیں کر پائے گا۔

مارچ میں مفتی تعز، علامہ علوی بن عقیل نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ گزشتہ 22 ماہ سے صیہونی دشمن اور اس کے امریکی شراکت دار کے ہاتھوں قتل و بھوک کا شکار ہے، جب کہ پوری دنیا اس عہد کے بدترین نسل کشی پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دینی، اخلاقی اور انسانی فرض کے تحت ہر ہفتے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ یہ اللہ کی رضا کی خاطر جہاد ہے، غزہ و فلسطین کی حمایت میں، ظلم کے خلاف، اور فریب دہ معاہدوں کی کھلی مخالفت میں۔

امریکی پشت پناہی میں صیہونی مظالم، خصوصاً بھوک کے ہتھیار کے ذریعے غزہ کو مٹانے کی کوشش، پوری انسانیت، اقوام، حکومتوں اور تنظیموں کا امتحان ہے۔ اسلامی امہ اپنے ایمان اور اخوت کے کڑے امتحان سے گزر رہی ہے، عرب دنیا اس سے بھی سخت آزمائش میں ہے۔

اس معاملے میں کوئی بھی فریق بری الذمہ نہیں۔ اقوام ہوں، حکومتیں یا تنظیمیں—سب کا کردار تاریخ میں محفوظ ہوگا اور اس کا دنیا و آخرت میں حساب لیا جائے گا۔

بیان میں یمنی مسلح افواج کو چوتھے مرحلے کی کارروائیاں شروع کرنے پر خراج تحسین پیش کیا گیا، جو عوامی جذبات کا عکس ہے، اور ان کمپنیوں پر کاری ضرب لگانے کا مطالبہ کیا گیا جو صیہونی جرائم میں شریک ہیں۔

غزہ کے مزاحمتی ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ ناقابل تصور حالات میں تاریخ ساز کارنامے انجام دے رہے ہیں۔ صرف مسلح مزاحمت اور عملی اقدامات ہی غزہ کی تقدیر بدل سکتے ہیں—بیانات نہیں۔

خائنوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جو کوئی بھی یمنی عوام کے غزہ، فلسطین اور الاقصیٰ سے وابستہ مقدس موقف سے غداری کرے گا، وہ نہ صرف رب کی پکڑ کا نشانہ بنے گا بلکہ تاریخ کا بھی مجرم کہلائے گا۔ ہم نے شہداء دیے، محاصروں کا سامنا کیا، دشمن افواج سے ٹکر لیے۔ ہم اپنی عزت اور امت کی حرمت کے لیے مزید قربانیوں کو بھی تیار ہیں۔

ہم پوری تیاری میں ہیں—لاکھوں باایمان یمنی عوام—کہ کسی بھی سازش، جارحیت یا خیانت کا بھرپور جواب دیں۔ ہم سب سے پکار کر کہتے ہیں: چوکنا رہیں، متحرک رہیں، اور اللہ پر بھروسا کریں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین