غزہ (مشرق نامہ) – امریکی میڈیا ادارے "میڈیا لائن” نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ پر جاری نسل کش جنگ کے دوران "اسرائیلی” فوجیوں کے لیے میدان جنگ کے بعد سب سے بڑا خطرہ خودکشی بن چکا ہے۔
رپورٹ میں "ہلم” نامی تنظیم کے شریک بانی اور سابق سربراہ یارون ایڈیل کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جب جنگ ختم ہوگی تو اسرائیلی فوجیوں میں خودکشی کے رجحانات اور بڑھیں گے۔ ہم مزید خودکشیوں کی خبریں سننے کے قریب ہیں۔
میڈیا لائن نے خبردار کیا کہ ہم خودکشی کے خیالات میں مبتلا ‘اسرائیلیوں’ کی ایک بڑی لہر کے دہانے پر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، سال 2025 کے پہلے چھ ماہ میں کم از کم 18 اسرائیلی فوجیوں نے خودکشی کی، جن میں صرف جولائی کے ابتدائی دو ہفتوں میں چار واقعات شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج نے نفسیاتی دباؤ اور جنگی تناؤ سے متاثرہ اہلکاروں کے لیے ایک نئی خصوصی کلینک بھی قائم کی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، غزہ پر جنگ کے آغاز (اکتوبر 2023) سے اب تک تقریباً 50 فوجی خودکشی کر چکے ہیں۔ اخبار ہارٹز کے مطابق، 2023 میں 17، 2024 میں 24 اور 2025 میں اب تک 17 اہلکار خودکشی کر چکے ہیں، جن میں سے سات نے غزہ پر جنگ کے بعد خودکشی کی۔
فوجی رپورٹوں کے مطابق، غزہ پر جنگ کے آغاز سے اب تک 898 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 6,134 زخمی ہوئے ہیں، جب کہ داخلی طور پر اسرائیلی فوج پر نقصانات کے اصل اعداد و شمار چھپانے کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔
دوسری جانب، اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں اب تک 60,332 فلسطینی شہید اور 147,643 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر جنگ یوآو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
ساتھ ہی اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف (ICJ) میں غزہ پر نسل کشی کے الزام میں مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔

