غزہ (مشرق نامہ) – فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں بھوک اور غذائی قلت کے باعث مزید تین افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں دو بچے شامل ہیں۔
جمعے کی شب جاری مختصر بیان میں وزارت نے تصدیق کی کہ بھوک سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 162 ہو چکی ہے، جن میں 92 بچے شامل ہیں۔ وزارت صحت نے خبردار کیا کہ اسرائیلی محاصرے اور غذائی و طبی امداد کی شدید قلت کے سبب انسانی بحران مسلسل بگڑ رہا ہے۔ وزارت نے عالمی برادری اور امدادی اداروں سے فوری اور ہنگامی مداخلت کا مطالبہ دہرایا۔
اسرائیلی قابض افواج نے 2 مارچ سے غزہ کے تمام بارڈر کراسنگ بند کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں اشیائے خورد و نوش اور طبی امداد کی ترسیل مکمل طور پر رک چکی ہے، اور علاقے میں قحط تیزی سے پھیل رہا ہے۔
قابض صہیونی حکومت گزشتہ 18 برسوں سے غزہ پر محاصرہ مسلط کیے ہوئے ہے، اور 2 مارچ 2025 سے، جب اس نے فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ساتھ سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی کی، تمام سرحدی راستے بند کر دیے ہیں، جس سے پہلے سے موجود انسانی بحران انتہائی سنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی نسل کش جنگ میں اب تک 60 ہزار 332 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 47 ہزار 643 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

