جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامییمن کا ناقابلِ شکست عہد: "ہم کسی قیمت پر بھی غزہ کا...

یمن کا ناقابلِ شکست عہد: "ہم کسی قیمت پر بھی غزہ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے”
ی

صنعاء (مشرق نامہ) – ناصری اتحاد تنظیم کی جنرل سیکرٹریٹ کے رکن حمید عاصم نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ یمنی عوام فلسطین اور غزہ کی حمایت سے کبھی تھکیں گے نہیں، اور اس مؤقف کو محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک مقدس مذہبی فریضہ قرار دیا۔

المسیرہ چینل سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یمن بھر کے 1,350 سے زائد مقامات پر شدید موسمی حالات کے باوجود عوامی مظاہروں میں بھرپور شرکت دراصل ایک جہاد ہے، کیونکہ مقبوضہ علاقوں تک پہنچنا فی الحال ممکن نہیں۔

حمید عاصم نے واضح کیا کہ یہ عوامی تحریک غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں یمن کی فوجی کارروائیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو اس مزاحمتی موقف کو سیاسی و عسکری دونوں محاذوں پر نمایاں کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی بیداری اور عسکری دباؤ ایک ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، اور یمنی عوام اور افواج مکمل طور پر تیار ہیں کہ وہ ان تمام دشمنانہ سازشوں کو ناکام بنائیں جو یمنی حمایت کے محاذ کو ختم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

عاصم نے خبردار کیا کہ اسرائیل، جو عسکری جارحیت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، اب یمن کے اندر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور "غداروں اور کرائے کے کارندوں” کو پیسے کے ذریعے متحرک کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمنی عوام ان سازشوں پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں، اور فلسطین سے اپنی وابستگی پر کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، چاہے اس کی جو بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔

انہوں نے عرب اور اسلامی حکومتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں "غدار اور امریکہ و اسرائیل کے غلام” قرار دیا۔

عرب دنیا کے دانشوروں، مفکرین اور مذہبی شخصیات کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو تحریکیں پہلے قوم پرست یا اسلامی کہلاتی تھیں، جیسا کہ اخوان المسلمون، وہ آج دشمن کے ساتھ ملی ہوئی ہیں اور فلسطین کو تنہا چھوڑ چکی ہیں۔

عاصم نے عرب دنیا پر زور دیا کہ وہ "بیدار” ہو اور ان خائن حکمرانوں کا سامنا کرے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مغربی عوام کی جانب سے فلسطین کے لیے اٹھنے والی آوازیں آج عرب اور اسلامی دنیا سے زیادہ طاقتور نظر آ رہی ہیں، حالانکہ وہ خود ظلم و جبر کا شکار ہیں۔

انہوں نے پیش گوئی کی کہ فلسطین سے غداری کرنے والے عرب حکمرانوں کے خلاف جلد عوامی بغاوتیں اُبھریں گی، اور امتِ مسلمہ ایک بار پھر اپنی عزت و وقار کی طرف لوٹے گی۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جنگ کے آغاز، اکتوبر 2023، سے ہی یمن نے فلسطینی کاز کے ساتھ مکمل طور پر خود کو وابستہ کر رکھا ہے، اور اس کا موقف صرف حمایت تک محدود نہیں بلکہ نسل کشی اور محاصرے کے خلاف ایک وسیع جدوجہد کا حصہ ہے۔

یمنی مسلح افواج نے بحیرہ احمر اور ارد گرد کے پانیوں میں اسرائیل اور اس کے اتحادیوں سے منسلک تجارتی و عسکری جہازوں کے خلاف کئی اہم بحری کارروائیاں کی ہیں۔ یہ اقدامات خطے میں مزاحمتی قوتوں اور ان کے اتحادی ممالک کے وسیع تر اتحاد کا حصہ ہیں، جو اسرائیل پر دباؤ بڑھا رہے ہیں جبکہ غزہ میں انسانی المیے پر عالمی برادری کا غصہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین