جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیجنوبی افریقہ پر اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنیکا دباؤ بڑھنے لگا

جنوبی افریقہ پر اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنیکا دباؤ بڑھنے لگا
ج

پریٹوریا (مشرق نامہ) – جنوبی افریقی حکام پر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے اور اس کے سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر غزہ میں قحط کے ذریعے اسرائیلی نسل کش مہم پر عوامی غم و غصے میں شدت کے بعد۔

کئی کارکنان نے کہا ہے کہ انہوں نے جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے مبینہ نسل کشی میں "شراکت داری” ختم کرانے کی کوششوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ غزہ میں اس وقت دو لاکھ سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہو چکے ہیں، اور پوری آبادی قحط کے خطرے سے دوچار ہے۔

مصنفہ اور سرگرم کارکن زکِسوا وانی نے کہا کہ بہت سے جنوبی افریقیوں کو توقع تھی کہ جنوبی افریقہ کی جانب سے 2023 کے آخر میں اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں مقدمہ دائر کرنے سے اس 22 ماہ پر محیط تنازع کا جلد خاتمہ ہو جائے گا؛ تاہم اسرائیل، جسے مغربی طاقتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے، اپنی فوجی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔

وانی نے کہا کہ دو سال ہونے کو آئے ہیں، اسرائیل نے جارحیت بند نہیں کی، اور ہم اب بھی فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ہولناک مظالم دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بطور فرد ہم نسل کشی روکنے میں بے بس ہو سکتے ہیں، لیکن بطور شہری ہم اپنی حکومت سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ وہ کم از کم یہ ایک قدم ضرور اٹھائے: جنوبی افریقہ ایک غیرمعمولی، نسل کش حکومت کے ساتھ معمول کے تعلقات نہیں رکھ سکتا۔

اکتوبر 2023 میں اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے بعد سے اب تک صرف بولیویا اور بیلیز ہی ایسے ممالک ہیں جنہوں نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات مکمل طور پر منقطع کیے ہیں۔ بعض مسلم اکثریتی ممالک جیسے بحرین، چاڈ، اردن اور ترکی نے مختلف اوقات میں اپنے سفیروں کو واپس بلایا، تاہم ان کے اسرائیل سے سفارتی روابط تاحال برقرار ہیں۔

اگرچہ جنوبی افریقہ نے 2018 سے اسرائیل میں اپنا سفیر مقرر نہیں کیا، مگر کارکنان کا کہنا ہے کہ ملک کو اسرائیل کے خلاف مزید جرات مندانہ موقف اپنانا چاہیے۔

متعدد جنوبی افریقیوں نے صدر سیرل راما فوسا کی حکومت پر اس بات پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ انہوں نے نومبر 2023 میں پارلیمنٹ کی اسرائیل سے تعلقات ختم کرنے کی قرارداد کو نظرانداز کیا۔

زکِسوا وانی نے کہا کہ دیگر ممالک نے بغیر کسی شور شرابے کے اسرائیل سے روابط ختم کر لیے، جبکہ ہم نے صرف بیانات جاری کیے۔

اسی ہفتے فلسطین سولیڈیریٹی کمپین (PSC) کی جانب سے شروع کی گئی ایک پٹیشن، جس میں حکومت سے اسرائیلی سفارت خانہ بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا، میں ہزاروں افراد نے دستخط کیے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ آپ نے درست طور پر اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ دائر کیا ہے، یعنی آپ نے تسلیم کیا کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے۔ تو پھر ہم اس نسل کش ریاست کے ساتھ سفارتی و اقتصادی تعلقات کیسے جاری رکھ سکتے ہیں؟

جنوبی افریقہ کے مختلف علاقوں میں غزہ پر اسرائیلی جنگ اور مغربی کنارے پر ظالمانہ قبضے کے خلاف عوامی غصے کے باعث چوراہوں، سفارت خانوں اور بندرگاہوں کے باہر متعدد مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

اس ہفتے بندرگاہی شہر ڈربن میں سرگرم کارکنان نے اس وقت متحرک ہو کر کارروائی کی جب اطلاعات موصول ہوئیں کہ ایک بحری جہاز اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں کی جانب جنوبی افریقہ سے روانہ ہو رہا ہے، اور اس میں ایسے سامان کی ترسیل ہو رہی ہے جسے جنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مقامی کارکنان کو جنوبی افریقہ کی بی ڈی ایس (بائیکاٹ، سرمایہ نکالنے، اور پابندیاں) تحریک کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ جہاز بھارت کے شہر چنئی سے آیا تھا اور اس میں "خطرناک مواد” لدا ہوا ہے۔

چونکہ بھارت ماضی میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں کو جنگی ڈرون، دھماکہ خیز مواد اور دیگر اجزاء فراہم کر چکا ہے، اس لیے کارکنان نے کہا کہ انہیں اس بات کی اخلاقی ذمہ داری محسوس ہوئی کہ وہ ڈربن کو فلسطینیوں کے قتل عام کے لیے استعمال ہونے والے راستے کے طور پر استعمال ہونے سے روکیں۔

جنوبی افریقی شہریوں کی بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے متحرک ہو کر مقامی اور قومی سطح کے نمائندوں اور پولیس سے رابطہ کیا، مطالبہ کیا کہ جہاز کی تلاشی لی جائے اور پریٹوریا حکومت بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے۔

قابلِ ذکر ہے کہ اسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 سے جاری وحشیانہ حملوں میں اب تک کم از کم 60,332 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ 1,48,870 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین