جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیفِن لینڈ کے صدر کی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر آمادگی

فِن لینڈ کے صدر کی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر آمادگی
ف

ہیلسنکی (مشرق نامہ) – فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب نے کہا ہے کہ اگر ان کی حکومت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے باضابطہ تجویز پیش کرے تو وہ اسے منظور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

صدر اسٹب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ فرانس، برطانیہ اور کینیڈا کے فیصلوں نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے رجحان کو تقویت دی ہے، جو امن عمل کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اگر مجھے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تجویز موصول ہوتی ہے تو میں اسے منظور کرنے کے لیے تیار ہوں۔

اس سے قبل انہوں نے فنش خبر رساں ادارے ایس ٹی ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کا معاملہ اُس سطح تک پہنچ چکا ہے جہاں فن لینڈ کو فیصلہ کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اکتوبر 2023 کے آغاز سے اس پیچیدہ سوال پر غور کر رہے ہیں۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ فن لینڈ کو اپنا فیصلہ سنانا چاہیے۔

صدر اسٹب نے امید ظاہر کی کہ فن لینڈ کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اقدام اس وقت مزید مؤثر ہوگا اگر یہ کسی وسیع بین الاقوامی کوشش کا حصہ ہو۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ایک امن عمل کو آگے بڑھانے اور نام نہاد دو ریاستی حل کی حمایت کے طور پر ہونا چاہیے۔

صدر فن لینڈ نے غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں جاری مظالم کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ اجتماعی سزا اور عام شہریوں کو پہنچنے والا درد و رنج "ناقابل قبول” ہے۔

فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے پرتگالی فیصلے پر صدر عباس کی تحسین

دوسری جانب، فلسطینی صدر محمود عباس نے جمعے کے روز پرتگال کی جانب سے ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے عمل کے آغاز کے فیصلے کو سراہا ہے، اور اسے دو ریاستی حل کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

انہوں نے سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کو جاری بیان میں کہا کہ
یہ پرتگال کا مثبت اور بہادرانہ فیصلہ ہے، جو امن کے راستے کو مضبوط کرتا ہے اور عالمی برادری کے بڑھتے ہوئے اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتا ہے۔

صدر عباس نے اُن ممالک سے اپیل کی جو اب تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کر سکے کہ وہ بھی "امن کی حمایت میں اسی طرح کے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔”

واضح رہے کہ فرانس، کینیڈا اور کئی دیگر ممالک اقوامِ متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے اب تک 148 ممالک فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر چکے ہیں۔ فلسطینی قیادت نے 1988 میں جلاوطنی کے دوران فلسطینی ریاست کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔

ادھر پیر کے روز اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں بتسیلم اور فزیشنز فار ہیومن رائٹس – اسرائیل نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے ارتکاب کا الزام عائد کیا ہے، اور کہا کہ اسرائیل منظم طریقے سے فلسطینی سماج کو تباہ کر رہا ہے اور خطے کے طبی ڈھانچے کو دانستہ طور پر منہدم کر رہا ہے۔

7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک کم از کم 60,332 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ 1,48,870 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین