لاہور (مشرق نامہ) — ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان اپنے دوطرفہ تجارتی حجم کو سالانہ 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
صدر پزشکیان ہفتے کے روز ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی دعوت پر تہران سے لاہور روانہ ہوئے۔ روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک تہران اور اسلام آباد کے درمیان "خوبصورت، مخلص اور گہرے تعلقات” قائم رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات اقتصادی، سائنسی، ثقافتی اور سرحدی میدانوں میں عملی شکل اختیار کر چکے ہیں، اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ایک فطری اور گہرا رشتہ موجود ہے۔
ایرانی صدر نے بتایا کہ اس دورے کا ایک بنیادی مقصد زمینی، فضائی اور بحری راستوں سے سرحدی تجارت کو فروغ دینا ہے۔ ان کے بقول، پاکستان کے ذریعے ہم چین-پاکستان اقتصادی راہداری سے جڑ سکتے ہیں، اور یہ راہداری ایران کے راستے یورپ سے منسلک ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے لیے سلامتی اور سرحدی معاملات انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، اور دونوں ممالک باہمی ہم آہنگی کے ذریعے علاقائی سلامتی کے قیام کی کوشش کریں گے۔
"جارحیت کے خلاف یکجہتی”
صدر پزشکیان نے اپنی گفتگو میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر حالیہ 12 روزہ جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اس جارحیت کی بھرپور مذمت کی اور ایران کی سرزمین، حکومت اور عوام کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کا تحفظ اس دورے کا ایک اہم مقصد ہے، کیونکہ دشمن مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی سازش کر رہا ہے، جسے مسلم اقوام ناکام بنائیں گی۔
"مشترکہ مستقبل کی تشکیل”
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس دورے سے قبل پاکستان کے انگریزی اخبار دی نیوز میں شائع شدہ ایک مضمون میں لکھا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ہمارے تعلقات محض جغرافیہ پر مبنی نہیں بلکہ صدیوں پر محیط مشترکہ تمدنی ورثے، مذہبی ہم آہنگی، ثقافتی ربط اور اسٹریٹجک مفادات کے امتزاج سے عبارت ہیں۔
عراقچی نے مزید کہا کہ ایشیا کے اس اہم سنگم پر واقع دو خودمختار ممالک ہونے کے ناتے، ایران اور پاکستان کو نہ صرف ایک دیرپا شراکت سے فائدہ ہوگا بلکہ وہ خطے کے پرامن، کثیرالمذاہب اور مربوط مستقبل کے معمار بھی بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس جیسے سرحد پار خطرات کے تناظر میں تہران اور اسلام آباد باہمی چوکسی اور تعاون کا تسلسل جاری رکھیں گے۔
عراقچی نے غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی، شام اور لبنان پر قبضے، اور ایران پر حالیہ بلا اشتعال حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں "عدم استحکام اور بالادستی کے خواہاں جارح عناصر کے خلاف اجتماعی ردعمل ناگزیر ہے۔”
انہوں نے اختتام پر کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ایران اور پاکستان نہ صرف ترقی کریں بلکہ ایک پرامن، باہم مربوط اور شراکت دار خطے کے معمار بن کر ابھریں۔

