مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) ایک وفاقی اپیل کورٹ نے جمعہ کے روز ایک مقدمے کے اس حصے کو دوبارہ بحال کر دیا جس میں ایلون مسک کی کمپنی ایکس (جو پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانی جاتی تھی) پر بچوں کے جنسی استحصال کا مرکز بننے کا الزام لگایا گیا ہے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی کہا کہ پلیٹ فارم کو صارفین کی جانب سے پوسٹ کیے گئے قابل اعتراض مواد پر زیادہ تر قانونی تحفظ حاصل ہے۔
سان فرانسسکو کی 9ویں سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے یہ فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ایکس کو اس دعوے کا سامنا کرنا ہوگا کہ اس نے دو کم عمر لڑکوں کی فحش ویڈیو کی اطلاع نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلوائٹڈ چلڈرن (NCMEC) کو بروقت نہ دے کر غفلت برتی۔ مقدمہ ایلون مسک کی 2022 میں ٹوئٹر کی خریداری سے پہلے کا ہے، اور ایلون مسک خود اس مقدمے میں فریق نہیں ہیں۔
مدعی جان ڈو 1 نے دعویٰ کیا کہ وہ صرف 13 سال کا تھا جب اسے اور اس کے دوست کو اسنیپ چیٹ پر ایک شخص نے، جو خود کو ایک 16 سالہ لڑکی ظاہر کر رہا تھا، برہنہ تصاویر دینے پر مجبور کیا۔ بعد ازاں ان تصاویر کو ایک ویڈیو میں تبدیل کر کے ٹوئٹر پر اپلوڈ کر دیا گیا، جو کمپنی کو اطلاع ملنے کے بعد 9 دن تک آن لائن رہی اور 1,67,000 سے زائد بار دیکھی گئی۔
عدالتی جج ڈینیئل فاریسٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جب پلیٹ فارم کو بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد کے بارے میں علم ہو جاتا ہے، تو اس صورت میں اسے رپورٹ کرنے کی قانونی ذمہ داری ہوتی ہے، اور اس پر آن لائن مواد سے متعلق عمومی قانونی تحفظ لاگو نہیں ہوتا۔

