بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ کا روس سے کشیدگی پر جوہری آبدوزیں تعینات کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کا روس سے کشیدگی پر جوہری آبدوزیں تعینات کرنے کا فیصلہ
ٹ

واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی عہدیدار کے ساتھ آن لائن لفظی جنگ کے بعد یوکرین اور محصولات کے معاملے پر کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہوئے جمعہ کے روز دو جوہری آبدوزیں تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔

ٹرمپ اور روس کی سیکیورٹی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف کے درمیان کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر تند و تیز جملوں کا تبادلہ جاری تھا۔

ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ انتہائی اشتعال انگیز بیانات کے پیش نظر، انہوں نے دو جوہری آبدوزیں مناسب علاقوں میں تعینات کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اگر یہ بیانات محض الفاظ سے بڑھ کر کچھ ہوں تو امریکہ تیار رہے۔

ٹرمپ نے لکھا: الفاظ بہت اہم ہوتے ہیں، اور اکثر غیر ارادی نتائج پیدا کرتے ہیں، مجھے امید ہے کہ اس بار ایسا نہیں ہوگا

انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آبدوزیں جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں یا صرف جوہری توانائی سے چلنے والی ہیں، نہ ہی تعیناتی کے مقامات بتائے، جو امریکی فوج خفیہ رکھتی ہے۔

تاہم، نیوز میکس کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ آبدوزیں روس کے قریب بھیجی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ہمیشہ تیار رہنا ضروری ہے، اسی لیے میں نے علاقے میں دو جوہری آبدوزیں بھیجی ہیں۔ میں صرف یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ اُن کے الفاظ محض الفاظ ہی ہوں۔”

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اعلان کیا کہ روس نے اپنے ہائپر سونک جوہری صلاحیت کے حامل "اوریشنک” میزائل کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کر دی ہے، اور وہ انہیں سال کے آخر تک بیلاروس میں تعینات کر سکتا ہے۔

یہ جوہری کشیدگی ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے روس کو اگلے ہفتے کے آخر تک یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ڈیڈلائن دی ہے، ورنہ نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

تاہم امریکی دباؤ کے باوجود، روس کی یوکرین کے خلاف کارروائیاں شدت کے ساتھ جاری ہیں۔ جمعے کو سامنے آنے والی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، روس نے جولائی میں یوکرین پر ریکارڈ تعداد میں ڈرون حملے کیے۔

جون سے اب تک روسی حملوں میں سینکڑوں یوکرینی شہری مارے جا چکے ہیں۔ جمعرات کو کییف پر میزائل اور ڈرون حملے میں 31 افراد جاں بحق ہوئے۔

پیوٹن نے ایک بار پھر جنگ بندی کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ امن چاہتے ہیں، لیکن ان کی شرائط تبدیل نہیں ہوئیں، جن میں یوکرین کا علاقہ چھوڑنا اور نیٹو میں شمولیت کی خواہش ترک کرنا شامل ہے۔

بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے ساتھ گفتگو میں پیوٹن نے بتایا کہ بیلاروس میں "اوریشنک” میزائل تعیناتی کے مقامات کا تعین کر لیا گیا ہے اور سال کے آخر تک یہ عمل مکمل ہو جائے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین