مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) حماس نے اسرائیلی یرغمالی ایویاتر ڈیوڈ کی دوسری ویڈیو جاری کر دی ہے، جس میں وہ نہایت کمزور حالت میں اپنی قبر کھودتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس ویڈیو کے ذریعے حماس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جب تک ایک آزاد، مکمل خودمختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی جس کا دارالحکومت یروشلم ہو، وہ ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ ادھر تل ابیب میں ایویاتر ڈیوڈ کے اہل خانہ نے ویڈیو کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ اور غیر ملکی فضائی امداد کے ذریعے غزہ میں پہنچنے والی خوراک ان کے بیٹے تک بھی پہنچائی جائے۔ ہزاروں مظاہرین نے تل ابیب میں یرغمالیوں کی فوری رہائی کے لیے مظاہرہ کیا۔
ادھر غزہ میں خوراک اور ضروری اشیاء کی شدید قلت جاری ہے، جس کے باعث قحط جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں قحط کا بدترین منظر اب حقیقت بن چکا ہے، جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں غذائی قلت سے 7 فلسطینی، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جنگ کے آغاز سے اب تک 93 بچے بھوک سے اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ فرانس اور جرمنی سمیت عالمی برادری نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امدادی سامان کی رسائی فوری اور مؤثر بنائے، کیونکہ موجودہ امداد انتہائی ناکافی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے امدادی راستوں کے لیے کچھ علاقوں میں جنگ روکنے اور فضائی امداد کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اقوام متحدہ نے اسے ناکافی قرار دیا ہے۔

