اسلام آباد (مشرق نامہ): حکومت کی جانب سے اربعین کے موقع پر زائرین کے ایران جانے پر زمینی سفر پر پابندی کے باعث پیدا شدہ تعطل کے دوران وزارتِ بحری امور نے ایران اور عراق جانے والے زائرین کے لیے فیری سروس شروع کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے جمعے کے روز فیری سروس کے فوری آغاز پر زور دیتے ہوئے لائسنسنگ اور مالی سہولیات کے نظام میں اصلاحات کی ہدایت دی تاکہ سستے سمندری سفر کو یقینی بنایا جا سکے اور زائرین کو آسانی فراہم ہو۔
انہوں نے فیری سروس کو زائرین کے لیے ایک محفوظ، مؤثر اور کم خرچ سفر کا ذریعہ قرار دیا، جس سے ہر سال ایران و عراق جانے والے 7 سے 10 لاکھ پاکستانی زائرین کو سہولت ملے گی۔ اگر ابتدائی تین برسوں میں 20 فیصد زائرین فیری کے ذریعے سفر کریں تو سالانہ 1.4 سے 2 لاکھ مسافر سمندری راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔
فیری سروس کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت، نجی آپریٹرز سے روابط، اور ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری جاری ہے، جب کہ آزمائشی آغاز آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے۔ وزیر نے فیری لائسنسنگ کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے اور اسے پاکستان سنگل ونڈو نظام سے منسلک کرنے کی ہدایت بھی دی۔
ادھر، وفاقی حکومت اور شیعہ علما و سیاسی جماعتوں کے درمیان زمینی سفر پر پابندی کے حوالے سے مذاکراتی ڈیڈلاک برقرار ہے۔ مجلس وحدت المسلمین اور شیعہ علما کونسل کے وفد نے وزارت داخلہ کو زمینی راستے کھولنے کی تحریری تجویز دی ہے، خاص طور پر کوئٹہ میں پھنسی ہوئی 80 بسوں کو گبد-ریمدان بارڈر پار کروانے کی اجازت کی درخواست کی گئی ہے۔
تاہم ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے پیش نظر حکومتی ردعمل تاخیر کا شکار رہا، اور وزارت داخلہ کے کسی اعلیٰ عہدیدار نے مذاکراتی وفد سے ملاقات نہ کی۔ مجلس وحدت المسلمین کے رہنما ناصر شیرازی نے کہا کہ حکومت معاملے کو سنجیدگی سے لے اور بات چیت کے ذریعے اس کا حل نکالا جائے تاکہ زائرین کربلا کا سفر کر سکیں۔

