اسلام آباد (مشرق نامہ): پاکستان نے ایک بار پھر یوکرین تنازع کے پرامن حل کے لیے اپنی پختہ حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان ہر اس کوشش کی حمایت کے لیے تیار ہے جو اس تنازع کے منصفانہ اور پائیدار حل کی جانب لے جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی و علاقائی فریقین کو شامل کرتے ہوئے ایک جامع اور تعمیری سفارتکاری کا راستہ اپنانا ہوگا تاکہ اعتماد سازی کے ذریعے دیرپا امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ استنبول میں ہونے والی بات چیت کو بنیاد بنا کر سنجیدہ اور باہمی عزم کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔
قبل ازیں، پاکستان کے اقوام متحدہ مشن نے جولائی 2025 کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک ماہ کی صدارت کے اختتام پر ایک سفارتی استقبالیہ کا اہتمام کیا، جس میں اعلیٰ سفارت کاروں، اقوام متحدہ کے سینئر حکام، میڈیا نمائندگان اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔
سفیر عاصم افتخار نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی صدارت کے دوران تعاون پر اپنے ہم منصبوں اور اقوام متحدہ کے حکام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سفیر منیر اکرم کو بھی خصوصی طور پر خراج تحسین پیش کیا۔
پاکستان نے اپنی صدارت کے دوران دو اہم سفارتی اقدامات پیش کیے جنہیں عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ان میں پہلا بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ میں کثیرالجہتی تعاون اور تنازعات کا پرامن حل کے موضوع پر اعلیٰ سطحی مباحثہ تھا، جس کی صدارت نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کی۔ اجلاس کے اختتام پر پاکستان کی پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی۔
دوسرا اہم اقدام اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون بڑھانے پر ایک اعلیٰ سطحی بریفنگ تھی، جس کا اختتام صدارتی بیان پر ہوا۔ پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور فلسطین کے مسئلے پر سہ ماہی مباحثے کی صدارت بھی کی، جو اس کی دیرینہ سفارتی ترجیح ہے۔
پاکستان جنوری 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا تھا اور 2026 کے اختتام تک اپنی مدت مکمل کرے گا، جہاں وہ عالمی امن و سلامتی کے فروغ میں سرگرم کردار ادا کرتا رہے گا۔

