جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیامارات میں اسرائیلی سفیر کی بدسلوکی پر باقاعدہ شکایت

امارات میں اسرائیلی سفیر کی بدسلوکی پر باقاعدہ شکایت
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی سفیر یوسی شیلی کے خلاف بدتمیزی، مقامی سیکیورٹی اہلکاروں سے جھڑپوں اور ابوظہبی کے ایک بار میں ’سرخ لائنوں‘ کی خلاف ورزی جیسے الزامات پر "اسرائیل” سے باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔

اسرائیلی میڈیا ادارے وائی نیٹ نے بدھ کے روز اطلاع دی کہ یوسی شیلی، جو اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کے سابق ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں، ان پر کم از کم تین مختلف مواقع پر نامناسب رویے اور اماراتی سیکیورٹی عملے سے تصادم کا الزام ہے، جس سے ان کے سفارتی آداب پر سوال اٹھے ہیں—خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں سیکیورٹی حساسیت بہت زیادہ ہے۔

کان بیٹ براڈکاسٹنگ کے مطابق، ایک واقعے میں جب اماراتی سیکیورٹی گارڈز نے انہیں رات کے وقت اپنی نقل و حرکت محدود کرنے کا کہا تو شیلی غصے میں آگئے اور چیخ کر کہا کہ کیا میں جیل میں ہوں؟

ایک اور موقع پر انہوں نے مبینہ طور پر بغیر سیکیورٹی اسکریننگ کے مسافروں کو اپنی سفارتی گاڑی میں سوار ہونے کی اجازت دے دی، جو مقامی قواعد کی خلاف ورزی ہے۔

چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، انہیں دبئی کے ایک بار میں ایسی حرکتوں میں دیکھا گیا جو "اخلاقی، ذاتی اور سفارتی معیار سے کمتر” تھیں۔ رپورٹ کے مطابق شیلی نے "ذاتی حدود کی خلاف ورزی” بھی کی۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، خلیجی ریاست نے اسرائیل کو ایک ثالث کے ذریعے پیغام دیا کہ "شیلی کا رویہ ناقابل قبول ہے اور ہماری عزت کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔”

اگرچہ شیلی نے الزامات کی تردید کی ہے، تاہم کان بیٹ نے بتایا کہ انہیں مقامی سیکیورٹی حکام کے ساتھ تعاون بہتر بنانے کے لیے باضابطہ وارننگ جاری کی گئی ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر نے ان واقعات کی تفصیلات کی تصدیق کرنے سے گریز کیا، البتہ یہ واضح کیا کہ شیلی بطور سفیر اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

اسرائیلی پردہ پوشی کی کوشش

اس سفارتی بحران کے درمیان یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ اسرائیلی وزارت خارجہ نے متحدہ عرب امارات میں تعینات اپنے بیشتر سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلانے کا حکم دیا ہے۔ وائی نیٹ کے مطابق، یہ فیصلہ قومی سلامتی کونسل (NSC) کی جانب سے جاری سفری وارننگ کے بعد کیا گیا ہے، جس میں ممکنہ حملوں کے خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزارت خارجہ اماراتی حکومت کی جانب سے شیلی کے "غیر اخلاقی رویے” پر تنقید کو "خطرے کی آڑ” میں چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سفیر کی طلبی

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ رواں سال مئی میں متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی سفیر یوسی شیلی کو طلب کیا تھا تاکہ مسجد الاقصیٰ اور مسلم کوارٹر میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی خلاف ورزیوں اور قابلِ مذمت حرکات پر باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔

یہ اقدام اُس وقت کیا گیا جب ’فلیگ ڈے مارچ‘ کے دوران بڑی تعداد میں صہیونیوں نے مقبوضہ بیت المقدس کی گلیوں میں عرب مخالف نعرے لگائے اور فلسطینی دکان داروں سے جھڑپیں کیں۔ اس مارچ کی قیادت انتہا پسند اسرائیلی وزیر پولیس اتمار بن گویر نے کی، جس میں مسجد الاقصیٰ پر دھاوا بھی بولا گیا۔

امارات نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ان حرکات کی مکمل ذمہ داری قبول کرے اور ملوث افراد کو جوابدہ بنائے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین