جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامییمنی کارروائیوں سے عالمی شپنگ کمپنیوں کا اسرائیل سے بائیکاٹ، صیہونی معیشت...

یمنی کارروائیوں سے عالمی شپنگ کمپنیوں کا اسرائیل سے بائیکاٹ، صیہونی معیشت کو کاری ضرب
ی

مشرق وسطیٰ (مشرق نامہ)– یمن نے اسرائیل کے خلاف بحری ناکہ بندی کو مزید سخت کرتے ہوئے عسکری کارروائیوں کے چوتھے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جو غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت میں جاری مزاحمتی مہم کا ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

غزہ میں اسرائیلی جارحیت، قتل عام اور قحط کے پس منظر میں، یمنی افواج نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید وسعت دی ہے۔ نئے مرحلے میں اب ان تمام بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا جو کسی بھی طور اسرائیلی بندرگاہوں سے منسلک کمپنیوں سے تعلق رکھتے ہیں — چاہے وہ کسی بھی ملک، نوعیت یا مقام کے ہوں، بشرطیکہ یمنی افواج ان تک رسائی حاصل کر سکیں۔

عسکری تجزیہ کاروں نے اس اقدام کو اسرائیل پر بحری دباؤ کی "سب سے بڑی اور اسٹریٹجک تبدیلی” قرار دیا ہے۔ عالمی شپنگ کمپنیوں کو نشانہ بنانا اسرائیل کی سپلائی چینز پر کاری ضرب تصور کیا جا رہا ہے، جو اب دو ہی راستوں پر مجبور ہیں: یا تو اسرائیل سے روابط منقطع کریں یا یمنی حملوں کا خطرہ مول لیں۔

اسٹریٹجک فیصلہ، مکمل ناکہ بندی

عسکری امور کے ماہر زین العابدین عثمان نے المسیرہ کو بتایا کہ چوتھا مرحلہ اسرائیل کے خلاف بحری ناکہ بندی میں ایک "معیاری اور اسٹریٹجک” تبدیلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مرحلے میں اب صرف ان جہازوں کو نہیں بلکہ ان تمام کمپنیوں سے وابستہ جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا جو اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سطح پر منسلک ہیں۔

ان کے مطابق حملے کا دائرہ کار اب بحیرہ احمر، بحیرہ عرب، بحر ہند، اور ممکنہ طور پر اس سے بھی آگے تک پھیل چکا ہے — جو یمن کے میزائل اور ڈرون نظام کی پہنچ کے مطابق متعین ہوگا۔

عثمان نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ کسی فوری ردعمل کے طور پر نہیں بلکہ یمنی انقلابی قیادت، بالخصوص سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کی جانب سے ایک طویل المدتی اور شعوری حکمت عملی کا حصہ ہے، جو اسرائیل و امریکہ کی جانب سے جاری قتل عام اور قحط کے جواب میں ترتیب دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مرحلے کا مقصد اب محض دباؤ نہیں بلکہ مکمل بحری محاصرہ ہے، جس سے اسرائیل کی بندرگاہیں — خاص طور پر حیفہ اور اشدود — مفلوج ہو جائیں گی۔

انہوں نے عالمی شپنگ کمپنیوں کی فہرست کو بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کو اسرائیلی معیشت کے لیے تباہ کن قرار دیا۔ اب بین الاقوامی کمپنیوں کو فیصلہ کرنا ہوگا: یا تو اسرائیل سے تعلق ختم کریں یا یمنی حملے کا خطرہ مول لیں۔

عثمان کے مطابق یمنی افواج کی صلاحیتیں پوری طرح مؤثر ہیں، جنہوں نے ایلات (ام الرشراش) بندرگاہ کو مکمل بند کرنے سمیت اسرائیل کی جانب جانے والے جہازوں کو بحر احمر، بحر عرب اور بحر ہند میں نشانہ بنایا۔

حیرت انگیز حکمت عملیاں اور درست نشانے

بریگیڈیئر جنرل ہاشم وجیہ الدین نے کہا کہ یمن اب فلسطینی میدان جنگ میں مرکزی قوت بن چکا ہے، اور غزہ کی حمایت میں اس کی کارروائیاں اسرائیل کے لیے نیا محاذ کھول چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یمن کی میزائل، ہائپرسانک میزائل، اور ڈرون ٹیکنالوجی اسرائیلی اہداف کو گہرائی میں نشانہ بنا رہی ہے، جس سے صیہونی ریاست کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور آبادکار پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یمنی بحری کارروائیوں نے اسرائیلی بندرگاہوں کی رسائی مسدود کر دی ہے، جس سے ایلات مکمل طور پر اور دیگر بندرگاہیں جزوی طور پر مفلوج ہو چکی ہیں، اور اسرائیل کو مہنگے اور غیر مؤثر متبادل تلاش کرنا پڑ رہے ہیں۔

وجیہ الدین کے مطابق یمن اس وقت تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا جب تک مکمل جنگ بندی اور غزہ کے محاصرے کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، بشمول خوراک اور طبی امداد کی رسائی۔

انہوں نے صنعاء اور دیگر آزاد صوبوں میں 1,200 سے زائد مقامات پر ہونے والے عوامی مظاہروں کو یمنی عوام کے انقلابی جذبے کا مظہر قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں خواتین اور بچوں پر قحط کے ذریعے ڈھائے جانے والے مظالم نے عوامی غم و غصے کو نئی شدت دی ہے، جس نے اس مرحلے کو تیز کر دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ محض میڈیا مہم نہیں بلکہ سنجیدہ فوجی حکمت عملی ہے، جسے یمن کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت اور صلاحیت کی پشت پناہی حاصل ہے۔

وجیہ الدین نے انکشاف کیا کہ یمن جلد ہی جدید میزائل، ڈرونز اور تیزرفتار جنگی کشتیوں پر مشتمل اپنا نیا ہتھیار نظام متحرک کرے گا، جو جنگ کے توازن کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ کئی اہم اہداف پہلے ہی فہرست میں شامل ہیں اور وقت آنے پر ان پر کاری ضرب لگائی جائے گی۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ یمنی قیادت، خواہ سیاسی ہو یا عسکری، مکمل عزم کے ساتھ اس مرحلے کو جاری رکھے گی، جب تک کہ غزہ کا محاصرہ ختم اور اسرائیلی جارحیت مکمل طور پر رک نہ جائے — اور یمن ان مقاصد کے حصول کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین