جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیامریکہ سے ایٹمی مذاکرات کی بحالی سے قبل جنگی نقصانات کا ازالہ...

امریکہ سے ایٹمی مذاکرات کی بحالی سے قبل جنگی نقصانات کا ازالہ ضروری ہے: ایرانی وزیر خارجہ
ا

تہران (مشرق نامہ) – ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے خلاف 12 روزہ امریکی-اسرائیلی جارحیت کے دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیے بغیر امریکہ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کی بحالی ممکن نہیں۔

جمعرات کے روز تہران میں فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عراقچی نے کہا کہ ایران، گزشتہ ماہ اسرائیلی حملوں اور بعد ازاں امریکہ کی شمولیت کے بعد، معمول کے تعلقات کی بحالی پر رضامند نہیں ہوگا، جبکہ ان دنوں دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یہ وضاحت کرنا ہوگی کہ مذاکرات کے دوران ہم پر حملہ کیوں کیا گیا، اور انہیں یہ بھی یقین دہانی کرانی ہوگی کہ مستقبل کے مذاکرات میں ایسا دوبارہ نہیں ہوگا اور انہیں اس نقصان کا ازالہ کرنا ہوگا جو انہوں نے ہمیں پہنچایا ہے۔

13 جون کو اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک غیر اعلانیہ جنگ شروع کی، جس میں متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈرز، ایٹمی سائنسدانوں اور عام شہریوں کو شہید کر دیا گیا۔

اس کے ایک ہفتے سے زائد عرصے بعد امریکہ نے بھی جنگ میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر بمباری کی، جو اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی صریح خلاف ورزی تھی۔

جواب میں ایران کی مسلح افواج نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے اسٹریٹجک اہداف اور قطر میں واقع العدید امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا، جو مغربی ایشیا میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔

24 جون کو ایران نے ان موثر جوابی کارروائیوں کے ذریعے اسرائیل اور امریکہ دونوں کو جنگ بندی پر مجبور کیا اور یوں غیر قانونی حملوں کا سلسلہ رک گیا۔

مذاکرات کا راستہ تنگ مگر بند نہیں

عراقچی نے امریکہ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف سے دوران جنگ اور بعد ازاں ہونے والے پیغامات کے تبادلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسئلے کا "ون-ون حل” تلاش کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا راستہ تنگ ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ مجھے اپنے اعلیٰ حکام کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ اگر ہم مذاکرات میں جاتے ہیں تو دوسرا فریق بھی سنجیدگی کے ساتھ ایک متوازن معاہدہ چاہتا ہے۔

عراقچی نے واضح کیا کہ وٹکوف نے مذاکرات کی بحالی کی تجاویز دی ہیں، تاہم ایران نے اعتماد سازی کے حقیقی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ مذاکرات کا حصہ مالی ازالہ اور ایران پر مزید حملوں سے گریز کی ضمانت ہونی چاہیے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ حالیہ جنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا ہے، جنہوں نے اپنی پہلی مدت صدارت میں 2015 کے ایٹمی معاہدے (JCPOA) کو یکطرفہ طور پر ترک کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے خلاف جذبات بہت شدید ہیں۔ لوگ مجھ سے کہہ رہے ہیں، ‘اپنا وقت ضائع نہ کرو، ان کے جھانسے میں مت آؤ… وہ مذاکرات کے پردے میں کچھ اور کرنا چاہتے ہیں۔’

ایران اور امریکہ نے اسرائیلی جارحیت سے قبل ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام پر پانچ بالواسطہ مذاکرات کیے تھے۔

چھٹا دور عمان کے دارالحکومت مسقط میں 15 جون کو ہونا تھا، تاہم ایران پر حملوں کے باعث اسے منسوخ کر دیا گیا۔

22 جون کو امریکہ نے باضابطہ طور پر ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کرتے ہوئے تین جوہری تنصیبات پر حملے کیے۔

زیرو یورینیم افزودگی کی شرط پر کوئی معاہدہ ممکن نہیں

عراقچی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران یورینیم افزودگی کا عمل جاری رکھے گا اور اگر ٹرمپ نے ایران سے صفر افزودگی کی شرط رکھی تو کوئی معاہدہ ممکن نہیں۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو چاہیے کہ اپنے تحفظات مذاکرات کے ذریعے بیان کرے۔

ہم بات چیت کر سکتے ہیں، وہ اپنی دلیل دیں گے، ہم اپنی دلیل دیں گے، عراقچی نے کہا کہ لیکن صفر افزودگی کی شرط کے ساتھ، ہمارے درمیان کوئی بات نہیں ہو سکتی۔

یورپی ممالک نے وعدے پورے نہ کیے، اسنیپ بیک کی صورت میں مذاکرات ختم

عراقچی نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر بھی تنقید کی جنہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے امریکہ سے مذاکرات بحال نہ کیے اور IAEA سے تعاون جاری نہ رکھا تو وہ اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کرنے کے لیے "اسنیپ بیک” میکانزم کو متحرک کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی فریقین نے JCPOA کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، اور اگر وہ اسنیپ بیک میکانزم کو استعمال کرتے ہیں تو ایران ان سے مذاکرات مکمل طور پر ختم کر دے گا۔

یورپیوں کے ساتھ ابھی بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ نہ پابندیاں ہٹا سکتے ہیں نہ ہی کوئی عملی اقدام کر سکتے ہیں۔ اگر وہ اسنیپ بیک کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے لیے ان کے ساتھ راستہ بند ہو چکا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین