اسلام آباد (مشرق نامہ) –
جون 2025 کے بجلی بلوں میں فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں صارفین کو 65 پیسے فی یونٹ ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بدھ کے روز سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی درخواست پر عوامی سماعت کی، جس میں جون کے مہینے کے لیے فیول چارجز میں کمی کی سفارش کی گئی تھی۔
سی پی پی اے نے بتایا کہ ریفرنس فیول لاگت 8.3341 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی، جب کہ اصل لاگت 7.6800 روپے فی یونٹ رہی، اس بنیاد پر 0.6541 روپے فی یونٹ کمی کی درخواست دی گئی۔
سماعت کے دوران نجی شعبے کے شرکاء نے حکومت کی جانب سے صنعتی صارفین کو مکمل ٹیرف منتقل نہ کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ شرکاء نے سوال اٹھایا کہ پٹرولیم لیوی کی مد میں 1.71 روپے فی یونٹ کی رعایت بجلی کے بلوں میں کیوں شامل نہیں کی گئی؟ وزارت توانائی کی جانب سے کوئی نمائندہ موجود نہ تھا اور نہ ہی کوئی وضاحت دی گئی۔
ایک شرک نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ نیپرا نے خود حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ پٹرولیم لیوی صارفین پر منتقل کی جا رہی ہے، پھر ٹیرف میں کمی کیوں نہیں کی گئی؟ ایک صنعتی نمائندے نے بتایا کہ موجودہ صنعتی ٹیرف بڑھ کر 35 روپے فی یونٹ تک پہنچ گیا ہے، جو کاروباری لاگت کو ناقابل برداشت بنا رہا ہے۔
ایک اور فریق نے جامشورو پاور پلانٹ کو سستی گیس کی فراہمی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ گیس زیادہ مؤثر پلانٹس جیسے ہالمور یا قائداعظم پاور پلانٹ کو دی جانی چاہیے۔ سی پی پی اے کے مطابق یہ ممکن نہیں کیونکہ گیس کی فراہمی مخصوص پائپ لائن کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
اسی دوران ایک سوال میں بگاس (گنے کی پچ) سے بجلی بنانے والے پلانٹس کیلئے بنیادی نرخ میں اضافے پر اعتراض کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ بگاس چونکہ شوگر ملز کی ضمنی پیداوار ہے، اس لیے کوئلے کے مساوی نرخ دینا ناانصافی ہے۔ نیپرا کے افسر نے وضاحت دی کہ بگاس ایک مؤثر اور توانائی سے بھرپور ایندھن ہے، اور ٹیرف میں اضافے کا تعلق پرانے واجبات کی ادائیگی سے ہے، نہ کہ کسی خاص رعایت سے۔
نیلم-جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے بارے میں سوال پر بتایا گیا کہ یہ منصوبہ مزید دو سال تک نیشنل گرڈ سے باہر رہے گا۔
سی پی پی اے کے مطابق جون میں 13.31 ارب یونٹ بجلی فروخت ہوئی، جس کی اوسط لاگت 7.68 روپے فی یونٹ رہی، جو کہ ریفرنس لاگت 8.33 روپے سے کم ہے۔ فیول لاگت میں کمی کی بدولت صارفین کو 8 ارب روپے سے زائد کا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
چیئرمین نیپرا نے ہدایت دی کہ تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو گردشی قرضے کے اثرات سے آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے ڈسکوز سے ماہانہ ڈیفالٹ شدہ قرضوں کا ڈیٹا طلب کیا، تاہم حکام نے کہا کہ یہ ڈیٹا سماعت کے دوران دستیاب نہیں، لیکن جلد جمع کروا دیا جائے گا۔ چیئرمین نے ہدایت کی کہ اگلی سہ ماہی سماعت (4 اگست) میں مکمل اعدادوشمار پیش کیے جائیں۔
اگر تجویز کردہ 65 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری ہو جاتی ہے تو یہ تمام ڈسکوز صارفین (سوائے لائف لائن صارفین کے) پر ایک ماہ کے لیے لاگو ہوگی۔
سی پی پی اے-جی کے مطابق جون میں 13,744 گیگا واٹ آور (جی ڈبلیو ایچ) بجلی پیدا ہوئی، جس میں سب سے زیادہ حصہ ہائیڈرو پاور (39.36%) کا تھا، اس کے بعد آر ایل این جی (16.12%)، مقامی کوئلہ (10.99%)، درآمدی کوئلہ (10.16%)، اور ایٹمی توانائی (10.06%) رہی۔ سب سے مہنگی بجلی ایران سے درآمد شدہ تھی، جس کی لاگت 22.5155 روپے فی یونٹ رہی، جب کہ شمسی توانائی بغیر کسی لاگت کے فراہم کی گئی۔
تقریباً 2.97 فیصد ترسیلی نقصانات اور دیگر ایڈجسٹمنٹس کے بعد، ڈسکوز کو 13,310 گیگا واٹ آور بجلی اوسط 7.68 روپے فی یونٹ لاگت پر فراہم کی گئی۔
نیپرا نے تمام متعلقہ فریقین کو قانونی دائرہ کار کے تحت تحریری یا زبانی اعتراضات جمع کروانے کی دعوت دی ہے۔ سی پی پی اے کی درخواست اور متعلقہ دستاویزات نیپرا کے ضوابط کے تحت دستیاب ہیں۔

