واشنگٹن(مشرق نامہ): امریکہ نے پاکستان سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 19 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کر دی ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی سطح پر تجارتی اقدامات کو سخت بنانے کی تازہ کوشش ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ متعدد ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر نظرثانی کر رہا ہے اور جمعہ کی ڈیڈ لائن سے قبل نئے نرخ نافذ کر رہا ہے۔ پاکستان ان 69 ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جن پر اب 10 فیصد سے لے کر 41 فیصد تک کے زیادہ درآمدی محصولات لاگو ہوں گے۔ یہ تمام اقدامات ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کیے جا رہے ہیں جس کا مقصد غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا خاتمہ اور امریکہ کے معاشی و قومی سلامتی کے مفادات کا تحفظ بتایا گیا ہے۔
یہ نئے محصولات ایک ہفتے بعد نافذ العمل ہوں گے۔ صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق، جو ممالک ضمیمے میں شامل نہیں، ان پر عمومی طور پر 10 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔ بعض ممالک جیسے کینیڈا، میکسیکو، بھارت اور جنوبی کوریا کے لیے مخصوص نرخ مقرر کیے گئے ہیں۔ کینیڈا پر فینٹانائل سے متعلق اشیاء پر ٹیکس 25 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دیا گیا ہے کیونکہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ کینیڈا فینٹانائل کی درآمد روکنے میں تعاون نہیں کر رہا۔ دوسری جانب میکسیکو کو 30 فیصد محصولات سے 90 دن کی عارضی مہلت دی گئی ہے تاکہ دونوں ممالک ایک وسیع تر تجارتی معاہدے پر بات چیت مکمل کر سکیں۔
بھارت کے ساتھ تجارتی مذاکرات زرعی شعبے تک رسائی کے مسئلے پر تعطل کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں بھارت پر بھی 25 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ ٹرمپ نے بھارت کی روسی تیل کی خریداری پر بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔
ادھر جنوبی کوریا نے امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اپنی برآمدات پر 15 فیصد محصولات قبول کر لیے ہیں جو پہلے 25 فیصد لگنے کا امکان تھا۔ اس معاہدے کے تحت جنوبی کوریا نے امریکہ میں 350 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں امریکہ میں گھریلو اشیاء کی قیمتوں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ محکمہ تجارت کے مطابق جون کے مہینے میں فرنیچر اور دیگر پائیدار گھریلو اشیاء کی قیمتوں میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا جو مارچ 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ان محصولات کا نفاذ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ان کے اقدامات کو عدالتوں میں چیلنج بھی کیا جا رہا ہے۔ ایک فیڈرل اپیل کورٹ نے ان کی جانب سے 1977 کے بین الاقوامی ایمرجنسی اقتصادی اختیارات ایکٹ کے استعمال پر سوالات اٹھائے ہیں۔
چین کے ساتھ بھی تجارتی مذاکرات جاری ہیں، جن میں کچھ پیش رفت تو ہوئی ہے لیکن ابھی معاہدہ مکمل نہیں ہوا۔ چین کو 12 اگست تک امریکہ کے ساتھ دیرپا تجارتی معاہدہ طے کرنا ہے، تاکہ باہمی ٹیرف اور نایاب معدنیات کی رسد جیسے معاملات پر اتفاق ہو سکے۔

