بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ کا بھارتی درآمدات پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرنیکا عندیہ

ٹرمپ کا بھارتی درآمدات پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرنیکا عندیہ
ٹ

واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ بھارت سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ نئی دہلی کی روس سے ہتھیاروں اور توانائی کی خریداری پر ایک غیر واضح سزا بھی دی جائے گی۔ یہ اقدامات جمعہ سے نافذ العمل ہوں گے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا:

"یاد رکھیں، بھارت ہمارا دوست ہے، لیکن ہم نے برسوں میں ان کے ساتھ بہت کم کاروبار کیا ہے کیونکہ ان کے ٹیرف دنیا میں سب سے زیادہ ہیں، اور ان کی غیر مالیاتی تجارتی رکاوٹیں سب سے سخت اور ناپسندیدہ ہیں۔

انہوں نے ایک اور پوسٹ میں تمام حروفِ تہجی بڑے لکھتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا بھارت کے ساتھ بہت بڑا تجارتی خسارہ ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بھارت ہمیشہ اپنی زیادہ تر دفاعی ضروریات روس سے پوری کرتا رہا ہے اور چین کے ساتھ مل کر روس سے توانائی کا سب سے بڑا خریدار ہے، جبکہ دنیا چاہتی ہے کہ روس یوکرین میں قتل عام بند کرے۔ تاہم، انہوں نے واضح نہیں کیا کہ روس کے ساتھ تجارت پر بھارت کو جو سزا دی جائے گی وہ کیا ہوگی۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وہ روس پر دباؤ بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ یوکرین میں جنگ بند کرے اور مذاکرات کا راستہ اپنائے۔ منگل کو انہوں نے کہا تھا کہ وہ روسی صدر پیوٹن کو 10 دن کا وقت دے رہے ہیں کہ وہ اپنا رویہ تبدیل کریں، ورنہ سزا دی جائے گی۔ ٹرمپ نے مزید کہا:ہم ٹیرف وغیرہ لگانے جا رہے ہیں، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس کا روس پر کوئی خاص اثر ہوگا کیونکہ وہ ظاہر ہے جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ بھارت، جو دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، ان چند بڑی معیشتوں میں شامل تھا جنہوں نے واشنگٹن سے وسیع تجارتی مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ تاہم چھ ماہ گزرنے کے باوجود، ٹرمپ کے سخت مطالبات اور بھارت کی زرعی و ڈیری سیکٹرز کو مکمل طور پر نہ کھولنے کی ہچکچاہٹ کے باعث کوئی معاہدہ طے نہ پا سکا، جو بھارت کو ان ممکنہ سزاؤں سے بچا سکتا تھا۔ منگل کو ہی ٹرمپ نے کہا تھا کہ چونکہ تجارتی معاہدہ مکمل نہیں ہو سکا، اس لیے بھارت کو 20 سے 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اب اعلان کردہ 25 فیصد ٹیرف موجودہ 10 فیصد ٹیرف سے ایک بڑی چھلانگ ہوگا۔

ٹرمپ نے عالمی معیشت میں ہلچل مچانے کے ارادے سے مختلف ممالک پر ٹیرف لگا کر دباؤ بڑھانے اور غیر ملکی کمپنیوں کو امریکہ منتقل ہونے پر مجبور کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔

یورپی یونین، چین، کینیڈا اور دیگر بڑے شراکت داروں کے ساتھ پیچیدہ مذاکرات جاری ہیں۔

ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان ممالک نے امریکہ سے تجارتی معاہدے نہ کیے تو وہ جمعہ سے سخت ٹیرف نافذ کر دیں گے۔ ان ممالک میں برازیل بھی شامل ہے، جس پر ٹرمپ نے 50 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی ہے، جزوی طور پر اس لیے کہ وہ برازیل کو دائیں بازو کے سابق صدر جائر بولسونارو پر بغاوت کے مقدمے کو ختم کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین