مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)سی جی ٹی این اور نیو ایرا انٹرنیشنل کمیونیکیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے کیے گئے ایک بین الاقوامی سروے میں دنیا بھر کے 46 ممالک سے 47,000 افراد کی رائے لی گئی، جس میں چین کی معیشت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا اظہار سامنے آیا۔ سروے کے نتائج کے مطابق 2023 میں 74.7 فیصد، 2024 میں 81.3 فیصد، اور 2025 میں 81.9 فیصد شرکاء نے چین کی اقتصادی طاقت، امکانات، اور مزاحمتی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ، 2025 کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 89.5 فیصد شرکاء نے چین کی اقتصادی کارکردگی کو سراہا، جبکہ 18 سے 44 سال کی عمر کے نوجوانوں میں یہ شرح 90 فیصد سے زائد رہی۔ 89.3 فیصد نے چین کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کو تسلیم کیا اور 86.4 فیصد نے چین کے عالمی معیشت میں نمایاں کردار کو سراہا۔ خطوں کے لحاظ سے افریقہ (95.6٪)، جنوبی امریکہ (92.9٪)، اور ایشیا (85.6٪) کے عوام نے سب سے زیادہ مثبت رائے دی۔
سروے میں یہ بھی پایا گیا کہ چین کی عالمی صنعتی اور سپلائی چینز میں استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کو بھی بھرپور پذیرائی ملی، جن کی منظوری کی شرح 2025 میں 84.7 فیصد تک جا پہنچی۔ مزید برآں، 79.8 فیصد نے چین کی وسیع منڈی کو اپنی معیشتوں کے لیے بڑے مواقع کا ذریعہ قرار دیا، اور اتنے ہی فیصد نے چین کے کاروبار دوست ماحول کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پُرکشش کہا۔
امریکی تجارتی پابندیوں کے باوجود، 78 فیصد شرکاء نے کہا کہ ان کے ممالک چین کے ساتھ تجارت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ نوجوانوں میں یہ شرح 81 فیصد سے زیادہ رہی۔ سروے کے مطابق 48.3 فیصد شرکاء نے چین کو امریکہ کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند تجارتی شراکت دار قرار دیا، جبکہ صرف 20.1 فیصد نے امریکہ کو ترجیح دی۔
چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ چین کی معیشت اب بھی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، اور سوشلسٹ خصوصیات، جدید صنعتی ڈھانچے، وسیع مارکیٹ اور باصلاحیت افرادی قوت جیسی خصوصیات پہلے سے زیادہ نمایاں ہو چکی ہیں۔ سروے میں چین کے "اعلی معیار کی ترقی” کے تصور کو بھی عالمی سطح پر پذیرائی ملی، جہاں سب سے زیادہ سراہا جانے والا پہلو مینوفیکچرنگ اور حقیقی معیشت کی ترقی (53.9 فیصد) تھا، اس کے بعد جدت پر مبنی ترقی (46.8 فیصد)، اعلیٰ سطحی کھلا پن (45.7 فیصد)، ترقی اور سلامتی میں توازن (38.8 فیصد) اور پائیدار ترقی (38.7 فیصد) شامل تھے۔
یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا کی اکثریت چین کو نہ صرف ایک طاقتور معیشت بلکہ ایک قابل اعتماد اور پُرکشش تجارتی شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہے، جو عالمی جنوب کے لیے خاص طور پر ایک اہم متبادل بن کر ابھر رہا ہے۔

