بدھ, فروری 18, 2026
ہومنقطہ نظرایران جنگ کے بعد کیسے زیادہ طاقتور ہوا؟

ایران جنگ کے بعد کیسے زیادہ طاقتور ہوا؟
ا

تحریر: موسوی نژاد

ہم اس وقت ایک تاریخی موڑ، مغربی تہذیب کے زوال، عالمی طاقت کے مشرقی بننے اور طاقتور ایران کی پیدائش کے دور سے گزر رہے ہیں۔ آج ایرانی معاشرہ پہلے سے کہیں زیادہ آمادہ، تیار اور پُرعزم ہے کہ وہ انقلاب کے خالص اور اصیل اہداف کی طرف ایک جست بھرتے ہوئے حرکت کرے اور خود مختار، اندرونی بنیادوں پر استوار ایرانی-اسلامی ترقی کے نقشے کو حقیقت کا روپ دے۔

حالیہ مسلط کردہ جنگ، صہیونی حکومت اور امریکہ کی بے بسی اور درماندگی کے ساتھ انجام کو پہنچی۔ اگرچہ قریبی مستقبل کے بارے میں کوئی قطعی رائے دینا ممکن نہیں اور ہمیں اس وحشی دشمن کی فریب کاری اور عہد شکنی سے ہرگز غافل نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اس کے وعدوں پر بھروسہ کرنا چاہیے، لیکن کم از کم اس مہلت میں ہم سوچ بچار اور گہرے غور و فکر کے ساتھ ان واقعات پر نظر ڈال سکتے ہیں جو ہم پر گزرے۔ اس تجزیے کی روشنی میں، کچھ نکات اور تحلیل پر مبنی باتیں حکومتی کارپردازوں، علمی و فکری میدان کے سرگرم افراد، اور اسلامی ایران کے شریف اور بہادر عوام کے سامنے رکھی جا سکتی ہیں۔ اسی بنیاد پر، اس جنگ کے ضمنی نکات اور حاصل ہونے والے تجربات کو تین حصوں میں واضح کرنا ضروری ہے: "جنگ کے اسباب و اہداف”، "فتوحات و نقصانات”، اور "حکمت عملیاں و تدابیر”۔

جہاں تک اس جنگ کے اسباب اور اہداف کا تعلق ہے، تو کہنا چاہیے کہ صہیونی حکومت اور امریکہ کا مشترکہ ہدف یہ تھا کہ "اسلامی جمہوریہ ایران کو ایک ہی وار میں سرنگوں کر دیا جائے”, اور اس کے بعد "ایران کو تقسیم کر دیا جائے”۔ ان کا مقصد صرف ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے ڈھانچے کو تباہ کرنا نہ تھا، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں انقلاب اسلامی کی حیات کے باب کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیں اور اس "تہذیبی رکاوٹ” کو چالاکی اور اچانک حملے کے ذریعے ہمیشہ کے لیے اپنے راستے سے ہٹا دیں۔

اس تجربے نے یہ بھی ظاہر کر دیا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کے درمیان مکمل تقسیمِ کار موجود ہے، اور ان دونوں کے درمیان کسی قسم کا اختلاف یا دراڑ نہیں پائی جاتی۔ امریکہ، مغربی ایشیا (مشرق وسطیٰ) کے خطے میں کوئی ایسی پالیسی اختیار نہیں کرے گا جو صہیونی حکومت کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو یا اس کے مفادات کے خلاف ہو۔

جہاں تک فتوحات اور نقصانات کا تعلق ہے، تو اس جنگ میں نہایت حیرت انگیز انداز میں ایسا قیمتی اور مضبوط سماجی سرمایہ ازسرنو وجود میں آیا اور تقویت یافتہ ہوا، جس کے نتیجے میں وہ دراڑیں اور فاصلے جو بیرونی سازشوں سے زبردستی معاشرے پر مسلط کیے گئے تھے، ختم ہو گئے، اور ایرانی مسلمان معاشرہ یکجان اور ہم آہنگ ہو گیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین