مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)سیاسی تجزیہ کار منیر دعیر نے تہران ٹائمز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں اسرائیل کی جانب سے جاری علاقائی جارحیت کو ایک وسیع تر نوآبادیاتی منصوبے کا حصہ قرار دیا ہے، جسے مغربی طاقتوں خصوصاً امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ان کے مطابق شام پر حالیہ حملے محض سیکیورٹی خدشات کے تحت نہیں کیے جا رہے، بلکہ یہ ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کو کمزور کرنا، تقسیم کرنا اور مزاحمتی قوتوں کو تھکا دینا ہے۔ دعیر نے خبردار کیا کہ شام اب اس نوآبادیاتی روڈ میپ کا اگلا اور مرکزی محاذ بنتا جا رہا ہے، اور اگر ایران، ترکی اور عرب ممالک نے مشترکہ لائحہ عمل اختیار نہ کیا تو یہ منصوبہ کامیاب ہو جائے گا۔
منیر دعیر کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے شام پر حملوں کو دروز اقلیت کے تحفظ کے نام پر جواز دیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ وہی پرانا نوآبادیاتی حربہ ہے جس میں حملے کے لیے جھوٹے اور وقتی بہانے گھڑے جاتے ہیں۔ اسی طرح لبنان، یمن، ایران اور دیگر مزاحمتی مراکز پر بھی حملوں کو مختلف بہانوں سے درست قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ اصل مقصد پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے تاکہ اسرائیل اور اس کے مغربی سرپرستوں کا غلبہ قائم رکھا جا سکے۔
دعیر نے زور دیا کہ شام کی موجودہ صورتِ حال کو تنہائی میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کو خطے کی مجموعی جغرافیائی سیاست سے جوڑ کر سمجھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، ایران، ترکی اور عرب دنیا کو چاہیے کہ وہ ان حملوں کا متحد ہو کر مقابلہ کریں، کیونکہ انفرادی طور پر کوئی بھی ملک اس خطرناک منصوبے کا مؤثر توڑ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ترکی کو خصوصی طور پر خبردار کیا کہ اگر اس نے اپنے دفاعی و جغرافیائی مفادات کا تحفظ کرنا ہے تو اسے نیٹو کی پالیسیوں سے ہٹ کر خطے میں اپنے کردار کو ازسرنو ترتیب دینا ہوگا۔
دعیر نے لبنان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کو کمزور کرنے کی کوششیں کامیاب ہو چکی ہیں، جبکہ یمن اپنی اندرونی تقسیم اور سخت جغرافیائی حالات کے باوجود مزاحمت کی علامت بنا ہوا ہے۔ ایران بھی بدستور اقتصادی، سیاسی اور عسکری حملوں کی زد میں ہے۔ ترکی اگرچہ تاحال بڑے حملوں سے بچا ہوا ہے، مگر اس کے گرد بھی محاصرہ تنگ کیا جا رہا ہے، خصوصاً بحیرہ روم کے تنازع اور یونانی عزائم کے تناظر میں۔
منیر دعیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ شام، جو ماضی میں روس اور ایران کے اثر و رسوخ کا مرکز تھا، اب بین الاقوامی سیاست کے نئے منصوبوں کے لیے سب سے موزوں میدان بن چکا ہے۔ شام پر امریکی پابندیاں نرم کی جا رہی ہیں، مغربی ممالک نے نئی شامی قیادت کو قبول کرنا شروع کر دیا ہے، اور ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ روس اور ایران بھی وہاں سے بتدریج پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
انٹرویو کے آخر میں دعیر نے سب سے بڑا خطرہ "تھکن اور بےحسی” کو قرار دیا۔ ان کے مطابق، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے خطے پر حملے پوری شدت سے جاری ہیں، جبکہ مزاحمتی قوتوں کے درمیان مایوسی، خاموشی اور سستی بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جو فلسطینیوں کو مار رہے ہیں، وہ نہ تھکے ہیں نہ اُکتا گئے ہیں۔ لیکن ہماری صفوں میں یہ تھکن اور بے حسی ایک خطرناک رجحان بنتی جا رہی ہے۔” ان کے مطابق، یہی وقت ہے کہ خطے کے لوگ بیدار ہوں، مزاحمت کو بحال کریں اور اس سامراجی منصوبے کا ڈٹ کر مقابلہ کریں جو پوری مسلم دنیا کے وجود کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

