مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)گریٹا برلن، فری غزہ موومنٹ کی شریک بانی اور غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف عالمی مزاحمت کی ایک نمایاں آواز، کا کہنا ہے کہ سماڈ فلوٹیلا صرف ایک بحری قافلہ نہیں بلکہ دنیا کے 40 سے زائد ممالک کی جانب سے اسرائیل کی غیر قانونی ناکہ بندی کے خلاف اجتماعی مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔ تہران ٹائمز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ تحریک دنیا کو یہ باور کرانے کے لیے ہے کہ اسرائیل نے 2005 سے غزہ کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے، اور فلسطینی عوام کو ان کے اپنے پانیوں تک رسائی حاصل نہیں۔ برلن کے مطابق، فری غزہ موومنٹ 2008 میں پانچ مرتبہ کامیابی سے غزہ پہنچی، اور اس وقت سے اسرائیل اور امریکہ نے ان کے قافلوں پر حملے، مسافروں کی گرفتاری اور کشتیوں کی ضبطی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ حالیہ واقعے میں اسرائیلی بحریہ نے انسان دوست جہاز ہندالہ کو بین الاقوامی پانیوں میں روکا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
برلن کا کہنا ہے کہ ان کے مشن کا مقصد صرف امدادی سامان پہنچانا نہیں بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے، تاکہ دنیا یہ دیکھے کہ غزہ کے شہری بھوک، محاصرے اور بمباری کا شکار ہیں۔ انہوں نے مغربی میڈیا اور حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیلی مظالم پر یا تو خاموش ہیں یا ان کی پردہ پوشی کرتے ہیں، مگر اب سوشل میڈیا اور نوجوان نسل کی بیداری کی بدولت حقائق سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ "گلوبل سماڈ فلوٹیلا” نامی ایک نیا منصوبہ، جس میں 40 سے زائد ممالک اور درجنوں کشتیاں شامل ہوں گی، اس جدوجہد کو نئی طاقت دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ کشتیاں روکی جائیں گی، مسافر گرفتار ہوں گے، سامان ضبط ہو گا، لیکن ہمارا عزم برقرار ہے۔ دنیا اب خاموش نہیں رہے گی، اور یہ فلوٹیلا ایک عالمی پیغام ہے کہ غزہ کے محصور عوام تنہا نہیں۔

