تحریر: ثقلین امام
جون 2025 کی جنگ، جس کا آغاز اسرائیل کے تہران کے قریب ملٹری کمانڈ مراکز پر فضائی حملے سے ہوا، اور جس کے جواب میں ایران نے بڑے پیمانے پر بیلسٹک میزائل حملے کیے، نہ صرف عسکری محاذ پر بلکہ ابلاغیاتی میدان میں بھی ایک فیصلہ کن موڑ بن گئی۔ جنگی محاذ پر جہاں ایران نے غیر معمولی دفاعی ردعمل دکھایا، وہیں مغربی میڈیا نے اس صورتحال کو ایران کے خلاف ایک نئے قسم کے نفسیاتی، نظریاتی اور پراپیگنڈہ محاذ میں بدل دیا۔
مغربی میڈیا کا مرکزی بیانیہ یہ رہا کہ ایران اندر سے ٹوٹ رہا ہے، عوام بغاوت کے قریب ہیں، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اس سطح پر پہنچ چکی ہیں کہ بین الاقوامی مداخلت ناگزیر ہو چکی ہے۔ لیکن ان دعووں کے پسِ منظر میں نہ تو جنگ کے اسباب کی مکمل تصویر دی گئی، نہ اسرائیلی حملوں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا، اور نہ ہی ایران کے دفاعی اقدامات کا کوئی سیاق و سباق پیش کیا گیا۔
واشنگٹن پوسٹ میں سابق امریکی سفارتکار اسٹیفن ریپ (Stephen Rapp) نے 24 جولائی 2025 کو لکھا:
“A mass execution like 1988 is underway in Iran, and the world must act now.”
ترجمہ: “ایران میں 1988 کی طرح اجتماعی پھانسیاں دی جا رہی ہیں، اور دنیا کو فوراً مداخلت کرنی چاہیے۔”
(Washington Post, 24 July 2025)
یہ دعویٰ بغیر کسی آزاد ذرائع یا شواہد کے تھا، مگر عالمی برادری کو ایرانی حکومت کے خلاف بھڑکانے کے لیے اسے خوب اچھالا گیا۔ یہ صحافتی اخلاقیات اور تحقیقاتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
ٹائم میگزین نے 22 جولائی کو لکھا:
“Iran is fractured from within; the US must exploit this weakness to negotiate a nuclear rollback.”
ترجمہ: “ایران اندر سے تقسیم ہو چکا ہے؛ امریکہ کو چاہیے کہ اس کمزوری کو استعمال کرے تاکہ ایٹمی پروگرام میں پسپائی حاصل کی جا سکے۔”
(Time, 22 July 2025)
یہ جملہ درحقیقت ایک پوری سامراجی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں کسی بھی قوم کی اندرونی مشکلات کو طاقتور ممالک اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اسی تناظر میں دی آسٹریلین (The Australian) میں ایرانی نژاد آسٹریلوی مصنفہ صبا واصفی (Saba Vasefi) نے لکھا:
“Iran is a terrorist state which targets children for ideological propaganda, and Western apologists must not be fooled.”
ترجمہ: “ایران ایک دہشتگرد ریاست ہے جو بچوں کو نظریاتی پراپیگنڈے کے لیے نشانہ بناتی ہے، اور مغرب میں اس کی حمایت کرنے والوں کو دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔”
(The Australian, July 2025)
یہ ایک بے بنیاد الزام تھا، جسے کسی تحقیق یا شواہد کے بغیر شائع کیا گیا۔ مغربی قارئین کو ایران کے خلاف جذباتی کرنے کا یہ ایک چالاک طریقہ تھا، جس میں بچوں کا نام استعمال کر کے ہمدردی سمیٹی گئی۔
ادھر ایران کی ریاستی خبر رساں ایجنسی Tehran Times نے ان پراپیگنڈہ حملوں کا جواب دیتے ہوئے ایک اداریے میں واضح کیا:
“Western media continue to project Iran’s defensive posturing as irrational aggression, and deliberately omit the regional provocations that led to the current war.”
ترجمہ: “مغربی میڈیا ایران کے دفاعی اقدامات کو غیر معقول جارحیت کے طور پر پیش کر رہا ہے، اور جان بوجھ کر ان علاقائی اشتعال انگیزیوں کو نظر انداز کر رہا ہے جنہوں نے اس جنگ کو جنم دیا۔”
(Tehran Times, July 2025)
یہ جملہ مغربی صحافت کے اس تضاد کو بے نقاب کرتا ہے جہاں زمینی حقائق کے بجائے سیاسی خواہشات کو رپورٹنگ کا معیار بنایا جاتا ہے۔
نیویارکر میں ایک ایرانی رپورٹر کا انٹرویو شائع ہوا، جس میں وہ کہتا ہے:
“They stop you and ask you to open your phone to see your photo gallery… Even taking one photo can lead to accusations of spying.”
ترجمہ: “وہ آپ کو روکتے ہیں اور آپ سے کہتے ہیں کہ فون کھولیں اور فوٹو گیلری دکھائیں… حتیٰ کہ ایک تصویر لینا بھی جاسوسی کے الزام میں بدل سکتا ہے۔”
(New Yorker, July 2025)
مگر اسی رپورٹر نے کہا:
“People here are not happy that someone like Netanyahu is coming and saying, ‘I’m giving you freedom.’ The bombs were not bringing democracy.”
ترجمہ: “یہاں کے لوگ خوش نہیں کہ نیتن یاہو جیسے لوگ آ کر کہیں کہ ‘ہم تمہیں آزادی دے رہے ہیں۔’ بمباری جمہوریت نہیں لا رہی تھی۔”
لیکن مغربی میڈیا نے صرف وہ پہلا جملہ نمایاں کیا جو ایرانی حکومت کو آمر ثابت کرتا ہو، جبکہ دوسرا جملہ جو مغرب کی فوجی مداخلت پر تنقید تھا، مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔
ماضی میں بھی یہ بات واضح طور پر سامنے آتی رہی ہے اور اب ایک بار پھر یہی منظر دکھائی دے رہا ہے کہ مغربی اسٹیبلشمنٹ اپنے میڈیا کے ذریعے ایران، روس اور چین کے خلاف سرد جنگ کے دور کی طرز پر ایسا بیانیہ فروغ دے رہی ہے جس کے ذریعے ان کے خلاف عسکری اور اقتصادی اقدامات کو جواز فراہم کیا جا سکے۔
ایران-اسرائیل جنگ 2025 کے بعد مغربی میڈیا کا پراپیگنڈہ کسی غیر جانبدار تجزیے یا انسانی ہمدردی پر مبنی نہیں تھا، بلکہ یہ ایک منظم مہم تھی جس کا مقصد ایران کو عالمی سطح پر بدنام، کمزور اور تنہا کرنا تھا۔ اس بیانیے میں حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا گیا، زمینی سچائیوں کو چھپایا گیا، اور ایران کی دفاعی حکمت عملی کو جارحیت کا نام دیا گیا۔
یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: کیا بین الاقوامی میڈیا کا کام سیاسی ایجنڈے کو فروغ دینا ہے یا حقیقت کی عکاسی کرنا؟ اور کیا ایران کے عوام کی آواز صرف اسی وقت سنائی جائے گی جب وہ مغرب کے حق میں بولیں گے؟

