مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبد الرحیم موسوی نے کہا ہے کہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں، اور وہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
تاجکستان کے وزیر دفاع میجر جنرل امام علی صبیرزودہ نے ایرانی چیف آف اسٹاف میجر جنرل موسوی سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔
جنرل صبیرزودہ نے جنرل موسوی کو ان کے نئے عہدے پر تعیناتی کی مبارکباد دی اور لیفٹیننٹ جنرل باقری، دیگر فوجی کمانڈرز، اور معصوم ایرانی شہریوں کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا، جسے انہوں نے تاجک عوام، حکومت، اور مسلح افواج کے لیے ایک بڑا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے ایران اور تاجکستان کے مابین گہرے ثقافتی، لسانی، اور تاریخی رشتوں کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو بھائی چارے پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ تاجک عوام ایرانیوں کو حقیقی بھائی تصور کرتے ہیں۔
جنرل موسوی نے بھی تاجک حکومت کی جانب سے ایران کے ساتھ 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے دوران اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل باقری نے ہمیشہ تاجکستان کے ساتھ دفاعی تعاون پر خصوصی توجہ دی، اور اس سمت میں مؤثر اقدامات کیے گئے جنہیں وہ جاری رکھیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران اور صیہونی و امریکی افواج کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران دشمن نے ایران کی فوجی، ایٹمی اور رہائشی تنصیبات پر حملے کیے، جن کا بھرپور جواب دیا گیا۔ موسوی نے کہا:یہ شرمناک جرم دنیا پر ثابت کرتا ہے کہ امریکہ اور بچوں کا قاتل صیہونی نظام نہ کسی بین الاقوامی اصول کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی اخلاقیات کے پابند ہیں۔ وہ پوری طاقت سے ایران کی مسلح افواج پر حملہ آور ہوئے لیکن اپنے مقاصد میں ناکام رہے اور بھاری نقصان اٹھایا، اسی لیے جنگ بندی کی درخواست کی تاکہ صیہونی نظام کو بچایا جا سکے۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا:ہمیں امریکہ اور صیہونی ریاست کے وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں، اور ہم ہر ممکنہ جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
خبررساں ادارے مہر کے مطابق، 13 جون کو صیہونی افواج نے ایران پر جنگ مسلط کی اور 12 روز تک ایران کی ایٹمی، فوجی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ 22 جون کو امریکہ نے بھی نطنز، فردو، اور اصفہان کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کیے۔
جوابی کارروائی میں ایرانی افواج نے زبردست حملے کیے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو اسپیس فورس نے "سچا وعدہ III” نامی آپریشن کے تحت صیہونی مقبوضہ علاقوں پر 22 میزائل حملے کیے، جن سے شدید نقصان پہنچا۔
اسی دوران، امریکی حملوں کے ردعمل میں ایرانی افواج نے قطر میں امریکی اڈے العدید پر بھی میزائل داغے، جو مغربی ایشیا کا سب سے بڑا امریکی فوجی مرکز ہے۔
24 جون کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ جھڑپیں رک چکی ہیں۔

