مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے منگل کے روز اپنے ترک ہم منصب نعمان قرتلمش سے ملاقات کے دوران زور دیا کہ یہ دو بااثر مسلم ممالک مل کر علاقائی استحکام کی ضمانت دے سکتے ہیں۔
یہ ملاقات جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں چھٹی عالمی کانفرنس برائے پارلیمانی اسپیکرز کے موقع پر ہوئی۔
ملاقات کے دوران قالیباف اور قرتلمش نے ایران اور ترکی کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
قالیباف نے کہا کہ علاقائی حالات حساس ہیں اور عالمی و علاقائی سطح پر رونما ہونے والی پیشرفتیں نئے چیلنجز کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں عدم استحکام کی جڑیں براہ راست امریکی مداخلت میں پیوستہ ہیں۔ "ایران اور ترکی کے باہمی اور علاقائی سطح پر مؤثر تعلقات ہیں جو خطے کی صورتحال بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ایرانی اسپیکر نے ترکی کی جانب سے 12 روزہ صیہونی و امریکی جارحیت کے دوران حکومت، سیاسی جماعتوں، عوامی رائے اور پارلیمنٹ کے مؤقف پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ہم ایران میں امریکا، صیہونی ریاست اور ان کے دیگر حمایتیوں کے ساتھ ایک محاذ آرائی میں مصروف تھے۔ ایرانی عوام اور مسلح افواج نے ثابت قدمی اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا، اور یہ پہلا موقع تھا جب صیہونیوں نے شدید فوجی تصادم کا کڑوا ذائقہ چکھا۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ صیہونی ریاست خطے میں اپنی توسیع پسندانہ پالیسی پر گامزن ہے۔
ترک اسپیکر نعمان قرتلمش نے بھی اسرائیلی جارحیت کے دوران ایران میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ترکی کی پارلیمنٹ نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی تمام سیاسی جماعتوں کی مکمل حمایت کے ساتھ ایک بیان جاری کیا، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں
قرتلمش نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں توسیع ہو رہی ہے، اور دو طرفہ تجارت کا 50 ارب ڈالر کا ہدف ایجنڈے میں شامل ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایرانی پارلیمانی فرینڈشپ گروپ نے حالیہ دورۂ ترکی کے دوران مفید بات چیت کی، جو اس حوالے سے مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

