جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ کی حکمت عملی پر اسموٹریچ اور آرمی چیف کے درمیان شدید...

غزہ کی حکمت عملی پر اسموٹریچ اور آرمی چیف کے درمیان شدید کشیدگی
غ

مقبوضہ فلسطين (مشرق نامہ) – غزہ پر مکمل قبضے کے معاملے پر اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ اور فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر کے درمیان تلخ جھڑپ ہوئی ہے، جب کہ فوج خبردار کر چکی ہے کہ غزہ پر مکمل قبضہ "سالوں پر محیط عمل” ہو سکتا ہے۔

منگل کو عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت نے رپورٹ کیا کہ یہ تنازع پیر کی شام ہونے والے اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کے مختصر اجلاس کے دوران سامنے آیا، جب اعلیٰ فوجی حکام نے غزہ پر جنگ کے مستقبل پر بحث کی۔

آرمی چیف ایال زامیر نے اس موقع پر خبردار کیا کہ غزہ پر مکمل قبضہ ایک طویل المدت کارروائی ہوگی، اور اس مرحلے پر فوج کو محدود زمینی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

"تمہیں ہرزی ہیلیوی سے معافی مانگنی چاہیے!”

رپورٹ کے مطابق ایال زامیر کی اس رائے پر اسموٹریچ شدید غصے میں آ گئے اور انہوں نے چیخ کر کہا کہ ہمیں [سابق آرمی چیف] ہرزی ہیلیوی کی یاد آ رہی ہے۔ تمہیں اس سے معافی مانگنی چاہیے… تم نے اس پر حملہ کیا تھا جب اُس نے بالکل یہی بات کہی تھی!

اسموٹریچ کی بڑھتی ہوئی مایوسی

یدیعوت احرونوت نے لکھا کہ یہ تنازع اسموٹریچ اور اسرائیلی فوجی قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی تازہ مثال ہے، خاص طور پر غزہ میں فوجی کارروائیوں کی رفتار اور حکمت عملی کے حوالے سے۔

اخبار کے مطابق اسموٹریچ اس سے قبل بھی سابق چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی سے بارہا ٹکرا چکے ہیں، اور اب وہ زامیر کے ساتھ بھی اسی طرح کی محاذ آرائی کی راہ پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔

اسموٹریچ، جو اسرائیل کی دائیں بازو کی شدت پسند حکومت کے کلیدی رکن ہیں، غزہ میں زیادہ جارحانہ اور مکمل قبضے کی حکمت عملی کے داعی ہیں۔ وہ نہ صرف مکمل قبضہ بلکہ دائمی اسرائیلی کنٹرول کے حامی ہیں، جبکہ فوجی قیادت کے کئی اہم افراد اس پالیسی کو اسٹریٹجک اور عملی طور پر ناقابلِ عمل سمجھتے ہیں۔

فوج کا انتباہ: قبضہ ایک طویل المدت عسکری مہم ہو گی

اجلاس کے دوران ایال زامیر نے مکمل قبضے کے آپریشنل خطرات اور وقت کا تخمینہ پیش کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ کے تمام علاقوں پر قبضہ کرنا اور ان پر قبضہ برقرار رکھنا ایک طویل المدت عسکری مہم ہو گی جس کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی وسائل درکار ہوں گے۔

زامیر نے تجویز دی کہ اس کے بجائے، مزاحمتی انفراسٹرکچر کو کمزور کرنے کے لیے مربوط اور ہدفی زمینی کارروائیوں کو جاری رکھا جائے۔

مغربی کنارے اور وادی اردن پر "خودمختاری” کا دعویٰ

23 جولائی کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک متنازع بل منظور کیا، جس میں مغربی کنارے اور وادی اردن پر اسرائیلی "خودمختاری” کا دعویٰ کیا گیا۔ یہ قانون 71 ارکان کی حمایت سے منظور ہوا، جبکہ 13 نے مخالفت کی۔ اس میں حیران کن طور پر اپوزیشن جماعت یسرائیل بیتینو نے بھی حمایت کی۔

اگرچہ یہ بل قانونی طور پر پابند نہیں، لیکن پارلیمنٹ کی تین ماہ کی تعطیلات سے قبل اس کی منظوری یہ ظاہر کرتی ہے کہ ضم کی پالیسیوں کو اب سیاسی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ یہ وہی رجحان ہے جو 2024 میں فلسطینی ریاست کے قیام کی Knesset میں مخالفت سے شروع ہوا تھا، اور اسموٹریچ کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے کہ پورے مغربی کنارے پر اسرائیلی حاکمیت کو باقاعدہ حیثیت دی جائے۔

فلسطینی ردعمل

اس قرارداد کو فلسطینی مزاحمتی دھڑوں نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، جنہوں نے اپنے بیانات میں اسے ایک جارحانہ اور قابضانہ اقدام قرار دیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر حسین الشیخ نے بھی اس اقدام کی شدید مخالفت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اسرائیلی فیصلے کا سیاسی جواب فلسطینی ریاست کو تسلیم کر کے دے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین