غزه (مشرق نامہ) – فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ایک اعلیٰ رہنما نے جنگ بندی مذاکرات سے امریکہ اور اسرائیل کی دستبرداری پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت میں نمایاں پیش رفت کے باوجود دونوں فریق مذاکرات کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔
اتوار کو ایک نشری تقریر میں خلیل الحیہ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل جان بوجھ کر وقت ضائع کر رہے ہیں تاکہ مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری رکھی جا سکے۔
خلیل الحیہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے حماس نے مذاکرات میں ہر ممکن لچک کا مظاہرہ کیا ہے، اور حالیہ مذاکراتی دور میں نمایاں پیش رفت اور کئی امور پر اتفاق رائے سامنے آیا، خصوصاً اسرائیلی فوج کے انخلاء، قیدیوں کے تبادلے اور امداد کی ترسیل کے حوالے سے۔
انہوں نے بتایا کہ ثالثوں نے فلسطینی فریق کو اسرائیل کی طرف سے مثبت اشارے پہنچائے، لیکن ہمیں حیرت اس وقت ہوئی جب اسرائیل نے اچانک مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا، اور امریکی صدر کے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی اس سازش میں شریک نکلے۔
خلیل الحیہ نے کہا کہ حماس اسرائیل کے اس مطالبے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے کہ امداد کی تقسیم کا اختیار اس کے ہی پاس رہے، حالانکہ اقوام متحدہ اسے "موت کا جال” قرار دے چکی ہے۔
امریکی اور اسرائیلی حمایت یافتہ "غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF)” نے مئی میں کام شروع کیا، جب اسرائیل نے غزہ میں امداد کے بہاؤ کو روک دیا تھا، جس پر دنیا بھر میں شدید مذمت کی گئی کہ خوراک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
منگل کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اعلان کیا کہ مئی کے بعد سے اسرائیلی افواج نے ایک ہزار سے زائد فلسطینی امداد کے متلاشیوں کو شہید کر دیا، جن میں زیادہ تر وہ تھے جو GHF کے مراکز کے قریب موجود تھے—جو اقوام متحدہ کے امدادی نظام کو نظرانداز کرتے ہیں۔
خلیل الحیہ نے کہا کہ ایسے میں مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، جب فلسطینی غزہ میں بھوک سے مر رہے ہوں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مذاکرات کی بحالی کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ خوراک اور ادویات کو فوری اور باعزت طریقے سے داخلے کی اجازت دی جائے—اور فلسطینیوں کے مصائب کو اسرائیل کے سودے بازی کے ہتھکنڈے نہ بننے دیا جائے۔
جمعہ کے روز حماس کے ایک سینئر رہنما نے CNN کو بتایا تھا کہ موجودہ تعطل کی دو بڑی وجوہات قیدیوں کے تبادلے کا طریقہ کار اور غزہ سے اسرائیلی انخلاء کا شیڈول ہیں۔
ان کے مطابق، حماس نے ان نکات پر دو تجاویز پیش کی تھیں، لیکن اسی دوران امریکہ اور اسرائیل نے مذاکراتی ٹیمیں واپس بلا لیں اور حماس کو ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔
عالمی سطح پر اسرائیل کو غزہ میں قحط و فاقہ کشی کی بنا پر بڑھتی ہوئی مذمت کا سامنا ہے۔ ایسے میں اسرائیلی حکومت نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ وہ غزہ کے بعض علاقوں میں روزانہ 10 گھنٹے کے لیے حملے روک دے گی۔
ادھر حماس کے سینئر رہنما علی برکہ نے اسرائیل کے اس اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف عالمی رائے عامہ کو دھوکہ دینے کی کوشش ہے۔
علی برکہ نے کہا کہ یہ انسانی ہمدردی کی جنگ بندی نہیں ہے، اور واضح کیا کہ اسرائیلی افواج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں امداد کے متلاشی فلسطینیوں کو شہید اور زخمی کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اب بھی غزہ میں دو ملین سے زائد شہریوں کو قحط کا نشانہ بنا رہا ہے۔
علی برکہ نے بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی کہ وہ فوری اقدامات کریں، اسرائیلی مظالم کو روکیں، غزہ پر مسلط محاصرے کو ختم کریں، زمینی راستے کھولیں، اور امداد کو بغیر کسی شرط کے داخل ہونے دیں۔
انہوں نے عالمی برادری کی خاموشی کو اسرائیلی جرائم میں "غیر اعلانیہ شراکت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ ان لوگوں کو معاف نہیں کرے گی جو فلسطینیوں کی نسل کشی، قتل عام اور بھوک پر خاموش تماشائی بنے رہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے جاری حملوں کے نتیجے میں اب تک غزہ میں کم از کم 59,921 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

