جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیحزب اللہ کا بیان: امریکہ نے کبھی لبنان کی مدد کا ارادہ...

حزب اللہ کا بیان: امریکہ نے کبھی لبنان کی مدد کا ارادہ نہیں کیا
ح

بیروت (مشرق نامہ) – حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ اور وفاداری برائے مزاحمت بلاک کے سینئر رہنما حسن عزالدین نے کہا ہے کہ امریکہ نے صیہونی دشمن کو لبنان کے خلاف جارحیت کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور وہ اس پر کوئی دباؤ ڈالنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت باقی رہے گی اور سیاسی قوتوں کو چاہئے کہ وہ امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے دشمن کے خلاف ملک کے موقف کو مضبوط بنائیں۔

لبنان کے جنوب میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حسن عزالدین نے کہا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے لبنان کے خلاف دباؤ اور سازشیں شدت اختیار کر رہی ہیں، جن کا مقصد ملک کو اس کی طاقت کے عناصر سے خالی کرنا ہے۔ مگر مزاحمت نہ صرف باقی رہے گی بلکہ مسلسل جاری رہے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کی سیاسی جماعتوں کو چاہیئے کہ وہ امریکہ پر اعتماد کے بجائے داخلی وحدت اور قومی خودمختاری پر زور دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمتی جذبہ وہی ہے جس نے دشمن کے مقابلے میں شیروں جیسے جانباز مجاہدین پیدا کیے، جنہوں نے صیہونی اہداف کو ناکام بنایا۔ ایسی مزاحمت کسی بھی دباؤ یا سازش کے سامنے ہرگز سرنگوں نہیں ہوگی۔

حسن عزالدین نے امریکی کردار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نفسیاتی جنگ، فریب اور نرم طاقت کے ذریعے ہمیں شکست دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر ہم سوال کرتے ہیں: کیا امریکہ نے لبنان کو مالی امداد دی؟ کیا لبنانی فوج کو دفاعی اسلحہ فراہم کیا؟ کیا عالمی سطح پر لبنان کے موقف کی حمایت کی؟ امریکہ نے لبنان کے لیے کیا کیا ہے کہ آج وہ اپنی تجاویز پیش کر رہا ہے؟

انہوں نے کہا کہ امریکہ لبنان کے تمام داخلی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت کرتا ہے، خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے، اور لبنانی عوام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

حسن عزالدین کا کہنا تھا کہ یہ امریکی مداخلت دراصل واشنگٹن کی صیہونی حکومت کو دی گئی غیر مشروط حمایت کا نتیجہ ہے، جس نے اسرائیل کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ لبنان پر حملے جاری رکھے۔ امریکہ نے کبھی لبنان کی مدد نہیں کی بلکہ اس نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر جنگ بندی کی پابندی کے لیے دباؤ نہیں ڈالتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم بار بار سوال کرتے ہیں: امریکہ لبنان کی مدد کیوں نہیں کرتا کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان کے ان پانچ اسٹریٹجک مقامات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے جن پر وہ قابض ہے؟ امریکہ اسرائیل کو لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی سے کیوں نہیں روکتا؟ کیوں وہ لبنانی شہریوں پر مسلسل حملے رکوانے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتا؟

خطاب کے اختتام پر حزب اللہ کے رہنما نے کہا کہ ہم، لبنانی عوام اور اس ملک کی سیاسی قوتیں، دشمن کے خلاف متحد ہیں اور اپنی سرزمین پر ڈٹے رہیں گے۔ مزاحمت اپنی عظیم میراث کے ساتھ قائم رہے گی اور ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین