مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– اقوامِ متحدہ کے شام کے لیے خصوصی نمائندے گیر پیڈرسن نے شام میں برسرِ اقتدار تنظیم "تحریر الشام” (HTS) پر زور دیا ہے کہ وہ نظم و ضبط کے ساتھ کام کرے، اور ملک میں طاقت کے استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پیر کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے پیڈرسن نے کہا کہ ایک خودمختار شام کو بالآخر جائز طاقت کے استعمال پر اجارہ داری حاصل ہونی چاہیے اور قانون کی حکمرانی کے تحت کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے شام کے جنوب مغربی صوبے السویدہ میں ہونے والی سنگین خلاف ورزیوں کی قابلِ اعتماد اطلاعات پر تشویش ظاہر کی، جن میں ماورائے عدالت سزائیں، من مانی قتل و غارت، اغوا، نجی املاک کی تباہی، اور گھروں کی لوٹ مار شامل ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان خلاف ورزیوں میں ملوث عناصر میں HTS سے وابستہ عسکریت پسندوں کے ملوث ہونے کی اطلاعات بھی شامل ہیں۔
پیڈرسن نے کہا کہ فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی اور سکیورٹی آپریشنز کے دوران ناروا رویہ ناقابلِ قبول ہے۔ ریاست کی یہ واضح ذمہ داری ہے کہ وہ پیشہ ورانہ اور نظم و ضبط کے ساتھ کام کرے، حتیٰ کہ حملے کی صورت میں بھی۔ اسے اپنی فورسز پر کنٹرول رکھنا چاہیے اور ان کا جوابدہ ہونا یقینی بنانا چاہیے — یہی اعتماد کی بحالی، سکیورٹی کے فروغ اور اتحاد کی راہ ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ شامی عوام کو محسوس ہونا چاہیے کہ حکومتی انتظامیہ اور اس کی فورسز کا وجود صرف ان کی حفاظت کے لیے ہے۔ ان کے بقول، پالیسی اور زمینی حقیقت کے درمیان موجود خلا کو ختم ہونا چاہیے۔
پیڈرسن نے یہ بھی کہا کہ ریاست سے وفاداری ایک ایسے حقیقی عمل کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے جو نمائندہ ریاست تشکیل دے، تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے، اور معاشرے کے تمام طبقات کو مساوی حیثیت میں شامل کرے۔
اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے نے سیاسی انتقالِ اقتدار میں شمولیت پر بھی روشنی ڈالی، اور کہا کہ بہت سے شامی عوام مرکزی اختیارات، شفافیت کی کمی، احتسابی نظام کی کمزوری، اور عوامی مشاورت و شرکت کے ناکافی ذرائع پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ احساسِ محرومی میں شدت اور عبوری عمل پر عوامی اعتماد میں کمی کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔
پیڈرسن نے کہا کہ سیاسی عبوری عمل میں عوامی اسمبلی (People’s Assembly) کا قیام ایک اہم قدم ہے، جو ستمبر میں متوقع ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام اہم شامی گروہوں اور طبقات کو بطور ووٹر اور امیدوار شامل کیا جانا نہایت ضروری ہے، اور خواتین کی بھرپور شرکت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ مدد کے لیے تیار ہے اور وہ حکام اور تمام شامیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی،” اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ "شامی سیاسی عبوری عمل کو ناکام نہیں ہونے دیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ شام میں تشدد میں شدت اس وقت آئی جب HTS، جو ماضی میں القاعدہ سے منسلک رہ چکی ہے، دیگر شدت پسند گروہوں کے ساتھ مل کر 8 دسمبر 2024 کو دمشق کا کنٹرول سنبھال چکی ہے، جس کے بعد سابق صدر بشار الاسد ملک چھوڑ چکے تھے۔
اس کے بعد HTS انتظامیہ پر ملک میں، بالخصوص اقلیتوں کے خلاف، انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کی عالمی برادری کی جانب سے وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔

