جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیایران کی غزہ جنگ بندی مذاکرات میں مداخلت کی تردید

ایران کی غزہ جنگ بندی مذاکرات میں مداخلت کی تردید
ا

تہران (مشرق نامہ) – ترجمان دفتر خارجہ ایران اسماعیل بقائی نے غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات میں ایران کی مبینہ مداخلت سے متعلق امریکی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں "قطعی بے بنیاد” قرار دیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے "ارنا” کی جانب سے اس معاملے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں بقائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دعوے پر ردعمل دیا۔ ٹرمپ نے برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر سے پیر کے روز ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے حالیہ قطر میں ہونے والے جنگ بندی مذاکرات میں "دخل اندازی” کی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں ایران نے ان مذاکرات میں مداخلت کی، اور حماس کو اشارے اور احکامات دیے۔ یہ ایک منفی عمل ہے۔

اس کے جواب میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران، دنیا کی اکثریت اقوام کے ساتھ مل کر، غزہ میں جاری نسل کشی کی شدید مذمت کرتا ہے اور ہر اس عمل کی حمایت کرتا ہے جو مظلوم فلسطینی عوام کے مصائب کو کم کرنے اور مظالم کو روکنے میں معاون ہو۔

انہوں نے زور دیا کہ حماس کے نمائندے مظلوم غزہ کے عوام کے مفادات کو پہچاننے اور ان کا دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے مذاکرات میں ایران کی مداخلت سے متعلق الزامات کو "قطعی بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے دعوے درحقیقت امریکہ کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں سے توجہ ہٹانے اور فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے جرائم میں اپنی شراکت داری کو چھپانے کی کوشش ہیں۔

ایرانی ترجمان نے اسرائیلی مظالم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ مہینوں میں غزہ کی مکمل ناکہ بندی، انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹیں، اور بھوک و پیاس سے نڈھال شہریوں کو امریکی کمپنی کی جانب سے قائم کردہ نام نہاد امدادی مراکز پر مار ڈالنے جیسے جرائم اسرائیل نے انجام دیے ہیں، جن میں 60 ہزار بے گناہ افراد بشمول خواتین اور بچوں کو قتل کیا گیا ہے۔

بقائی نے امریکی حکام پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کریں، اس پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالیں، اور عالمی اداروں کے توسط سے انسانی امداد غزہ میں داخل کرنے اور تقسیم کرنے کی اجازت دیں تاکہ ایک دیرپا جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکے۔

غزہ اس وقت تاریخ کے بدترین انسانی بحران سے دوچار ہے، جہاں ایک طرف اسرائیلی نسل کش جنگ جاری ہے اور دوسری طرف قحط نے تباہی مچا رکھی ہے۔

دو مارچ 2025 کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کے تمام بارڈر کراسنگ بند کر رکھے ہیں اور خوراک و طبی امداد کے داخلے میں رکاوٹیں ڈال رکھی ہیں، جس کے نتیجے میں پورے ساحلی علاقے میں قحط نے جنم لیا ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 سے جاری غزہ جنگ میں اب تک 59 ہزار 921 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ 1 لاکھ 45 ہزار 233 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ قحط اور غذائی قلت کے باعث اب تک 134 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 88 بچے شامل ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین