پاکستان(مشرق نامہ) اعلیٰ تعلیم کو ڈیجیٹل بنانے کی کوششوں کے تحت ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے لاہور اور کراچی میں دو جدید ڈیٹا سینٹرز قائم کیے ہیں، جنہیں ایسٹرو لیبز کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سینٹرز ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کریں گے۔
اس اقدام کے تحت کارکردگی میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے اس پروگرام کی پرفارمنس ریٹنگ میں بہتری کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ ایچ ای سی نے اپنے اہداف کے حصول کے لیے منظم انداز میں قابلِ قدر پیش رفت کی ہے۔
تاہم، پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے ڈیجیٹل سفر میں کچھ رکاوٹیں بھی درپیش ہیں۔ کئی جامعات تبدیلی کو اپنانے میں سست روی کا شکار ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی ناقص سہولیات تکنیکی مسائل کا سبب بن رہی ہیں۔ ان چیلنجز کے باوجود، اگر ایچ ای سی کی جانب سے مسلسل حمایت، اسمارٹ سرمایہ کاری اور تبدیلی کو قبول کرنے والی تعلیمی ثقافت کو فروغ دیا جائے تو یہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔
یہ کوشش پاکستان میں ایک زیادہ مربوط، مؤثر اور طلبہ مرکز یونیورسٹی نظام قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

