اسلام آباد(مشرق نامہ): حکومت کی جانب سے زائرین پر حکومت کا ایران سفری پابندی پر شیعہ علما کونسل سے رابطہ ایران و عراق کے لیے زمینی سفر پر پابندی کے فیصلے پر بڑھتی ہوئی ناراضگی کے پیشِ نظر وفاقی حکام نے منگل کے روز شیعہ علما کونسل (SUC) کی قیادت سے رابطے کیے۔
وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ ریاض حسین پیرزادہ نے علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی سے رابطہ کیا، جبکہ پنجاب کے گورنر سلیم حیدر نے علامہ عارف حسین واحدی (سیکرٹری جنرل SUC) سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔
ان روابط کا محور زائرین کو درپیش مشکلات تھیں، جو حکومت کی جانب سے زمینی راستے سے ایران و عراق جانے پر پابندی کے باعث شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ SUC قیادت نے حکام کو بتایا کہ ہر سال بلوچستان کے راستے بڑی تعداد میں زائرین ایران و عراق کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرتے ہیں، اور اس فیصلے نے خاص طور پر اربعین کے موقع پر کربلا جانے والے زائرین میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومتی نمائندوں نے SUC کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے پر مزید مشاورت کی جائے گی اور قابلِ عمل متبادل راستے تلاش کیے جائیں گے۔
قبل ازیں SUC نے اس حکومتی فیصلے کو زائرین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔
ایم ڈبلیو ایم کا ردعمل
مجلس وحدت المسلمین (MWM) کے رہنما سینیٹر علامہ ناصر عباس نے بھی حکومت کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال لاکھوں شیعہ و سنی زائرین اربعین کے موقع پر عراق کا سفر کرتے ہیں، لیکن اب انہیں ان کے مذہبی فرائض کی ادائیگی سے محروم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ چند روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے ایرانی و عراقی ہم منصبوں سے پاکستانی زائرین کے سفر کی سہولت کے لیے بات کی تھی، مگر حکومت نے بغیر کسی مشاورت یا پیشگی اطلاع کے اچانک زمینی سفر پر پابندی لگا دی۔

