باجوڑ(مشرق نامہ) تحصیل لوئی ماموند میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سربکف کا آغاز کر دیا ہے۔ منگل کو شروع ہونے والے اس آپریشن میں گن شپ ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے کی مدد سے کارروائیاں کی گئیں۔ ضلعی انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کمیٹی کی سفارش پر انتظامیہ نے علاقے کے 16 دیہاتوں میں تین روزہ کرفیو نافذ کر دیا ہے، جن میں بداِسیا تھرکو، اعراب، گٹ، آگرہ، خورچئی، دواگئی، کلان، لغڑئی، کتکوٹ، گلئی، نختر، زرئی، دمبرئی، امانتو اور زگئی شامل ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے چند گھروں میں پناہ لینے کے بعد فورسز نے عام شہریوں کے گھروں کو بھی نشانہ بنایا۔ اس پر مختلف سیاسی رہنماؤں اور عوامی نمائندوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ایم پی ایز ڈاکٹر حامد الرحمٰن، انور زیب خان، محمد نثار خان، سابق ایم این اے گل ظفر خان اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی ایم این اے مبارک زیب خان نے سوشل میڈیا پر آپریشن اور کرفیو کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات لوئی ماموند کے عوام کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نقل و حرکت پر پابندیاں لگائی جائیں تو عوام کو کم از کم ایک دن پہلے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اشیائے ضروریہ کا بندوبست کر سکیں۔
ڈاکٹر حامد الرحمٰن نے خبردار کیا کہ اگر فورسز نے آپریشن بند نہ کیا تو وہ "ماموند کے عوام کو سڑکوں پر لا کر احتجاج کریں گے”۔
جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی آپریشن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح باجوڑ پیس ایکشن کمیٹی کا ایک ہنگامی اجلاس ایم پی اے انور زیب خان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا، جس میں سیاسی، مذہبی جماعتوں اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں آپریشن فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
ادھر تحصیل وار ماموند کے عوام نے منگل کی شام شگو چوک میں احتجاج کیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں بے گناہ شہری مارے گئے اور زخمی ہوئے۔
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے بھی آپریشن کی مذمت کی ہے۔ پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان اور صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختون قوم دہائیوں سے دہشت گردی اور ریاستی جبر کا شکار ہے۔ انہوں نے آپریشن کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت کسی بھی فوجی آپریشن کے لیے صوبائی حکومت کی اجازت ضروری ہوتی ہے۔
تاحال کسی سرکاری ذریعے سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی.

