مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے جون 2024 سے اپریل 2025 کے دوران 7.2 ارب ڈالر کی خریداری کی، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر 13.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر 16.5 ارب ڈالر تک پہنچے، تاہم دسمبر کے بعد ان ذخائر میں کمی دیکھی گئی اور اپریل 2025 تک یہ 14.5 ارب ڈالر رہ گئے۔ اسٹیٹ بینک کی ماہانہ ڈالر خریداری کے اعداد و شمار کے مطابق نومبر میں 1.15 ارب، اکتوبر میں 1.02 ارب، ستمبر میں 946 ملین، جنوری میں 154 ملین، فروری میں 223 ملین، مارچ میں 860 ملین، اور اپریل میں 473 ملین ڈالر خریدے گئے۔ کاروباری طبقے کا کہنا ہے کہ روپے کو مصنوعی طور پر مستحکم رکھنے کے لیے اسٹیٹ بینک خود سب سے بڑا خریدار بن گیا ہے، جس سے مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافہ اور روپے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان بزنس فورم کے مطابق ڈالر کی حقیقی قیمت 260 روپے ہونی چاہیے، جبکہ موجودہ شرح 283 روپے فی ڈالر ہے، جو معیشت کے لیے غیر پائیدار سطح ہے۔ فورم نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ روپے کو مستحکم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ دوسری جانب، حالیہ دنوں میں روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں قدرے مضبوط ہوا ہے اور سونے کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے، جسے سرمایہ کاروں کے محتاط رویے سے جوڑا جا رہا ہے۔

