مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ): گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے تابناک مستقبل کے لیے ایک نئے وژن کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ رینکنگ حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹیوں کو اپنی کارکردگی میں بہتری کے لیے سنجیدہ اور شعوری کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ باہمی مشاورت، واضح اہداف کے تعین، انتھک محنت اور معیاری تعلیمی ماحول کو فروغ دے کر ہم اپنے تعلیمی اداروں کو قومی و بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام دلا سکتے ہیں۔
یہ بات انہوں نے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر سے ملاقات کے دوران کہی۔ گورنر نے کہا کہ خطے میں بدلتی ہوئی معاشی و تجارتی صورتحال کے تناظر میں طلبا کو معیاری تعلیم کے ساتھ جدید مہارتوں سے بھی لیس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ امتزاج ہمارے گریجویٹس کو باشعور، باصلاحیت اور جدید دنیا کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنائے گا، اور وہ ہمارے معاشرے کا قیمتی سرمایہ بنیں گے۔
گورنر مندوخیل نے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز پر زور دیا کہ وہ چانسلر آفس کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے سینیٹ اور سنڈیکیٹ اجلاس باقاعدگی سے منعقد کریں، تاکہ بلوچستان کی جامعات کو ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن کیا جا سکے۔

