بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیچینی کمپنیوں نے پاکستان سے گدھوں کا گوشت برآمد کرنیکی درخواستیں جمع...

چینی کمپنیوں نے پاکستان سے گدھوں کا گوشت برآمد کرنیکی درخواستیں جمع کرا دیں
چ

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ): دو چینی کمپنیوں نے پاکستان سے گدھوں کا گوشت اور دیگر اجزاء چین برآمد کرنے کے لیے سلاٹر ہاؤس چلانے اور برآمدی لائسنس کے حصول کی باضابطہ درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول میں غیرقانونی مذبح خانے پر چھاپے کے دوران 1,000 کلوگرام گوشت برآمد اور 50 زندہ گدھوں کو بازیاب کرایا گیا۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب قانونی طور پر پاکستان سے گدھوں کے گوشت اور ہڈیوں کی چین کو برآمد کے لیے کوئی باضابطہ کوشش کی گئی ہے۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے حکام کا کہنا ہے کہ درخواستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اور اگر تمام ضوابط پر عمل ہو گیا تو مذکورہ کمپنیوں کو برآمد کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

حکام کے مطابق برآمدات صرف بلوچستان کے گوادر بندرگاہ کے ذریعے کی جائیں گی، جو اس تجارت کے لیے واحد مجاز پروسیسنگ اور برآمدی مرکز مقرر کیا گیا ہے۔ ملک کے کسی اور حصے سے گوشت کی تیاری یا ترسیل کی اجازت نہیں ہوگی تاکہ مکمل نگرانی ممکن ہو اور مقامی مارکیٹ میں اس کی ترسیل کو روکا جا سکے۔

وزارت نے غیرقانونی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ اسلام آباد میں ایک غیر رجسٹرڈ غیر ملکی باشندے کی جانب سے مبینہ طور پر غیرقانونی مذبح خانہ چلایا جا رہا تھا۔ اس ضمن میں ایک غیر ملکی شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 6.047 ملین ہو چکی ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 1 لاکھ 9 ہزار کا اضافہ ہے۔ دوسری جانب چین میں گدھوں کا گوشت خوراک میں استعمال ہوتا ہے جبکہ ان کی کھال سے "ای جیاؤ” (Ejiao) نامی روایتی چینی ادویاتی جیلاٹن تیار کی جاتی ہے، جس کی عالمی طلب میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے۔

دی ڈونکی سینکچوئری، ایک برطانوی فلاحی تنظیم، کے مطابق "ای جیاؤ” انڈسٹری کو سالانہ تقریباً 59 لاکھ گدھوں کی کھال کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں گدھوں کی آبادی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔ چین کی شمالی صوبہ شانڈونگ میں اس مصنوعات کی تیاری کا 90 فیصد حصہ ہوتا ہے، اور اسے قومی ثقافتی ورثہ بھی قرار دیا گیا ہے۔

گوادر میں ایک مخصوص مذبح خانہ پہلے ہی فعال ہو چکا ہے، جو چین میں بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے گوشت، ہڈیوں اور کھالوں کی پروسیسنگ کر رہا ہے۔ اگر چینی کمپنیوں کو لائسنس جاری کر دیے گئے، تو یہ پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ایک نیا ذریعہ بن سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین