نیویارک (مشرق نامہ) اقوام متحدہ کی ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے غزہ کو بین الاقوامی قانون کا قبرستان قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دی جائے، فوری اور مستقل جنگ بندی نافذ کی جائے اور محصور شہریوں تک امداد کی بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ امدادی سامان کی ناکہ بندی اور پناہ گزین کیمپوں، اسپتالوں و امدادی قافلوں پر دانستہ حملے انسانیت اور قانون کی تمام حدیں پار کر چکے ہیں۔ ڈار نے فرانس کی جانب سے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے دیگر ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ فلسطین کو تسلیم کریں اور اس کی ریاستی حیثیت کے عالمی مطالبے کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ہاتھوں 58 ہزار سے زائد فلسطینیوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے قتل سے غزہ انسانی اصولوں کا قبرستان بن چکا ہے۔ پاکستان نے فلسطینی عوام اور اداروں کی ترقی کے لیے تکنیکی معاونت، صلاحیت سازی اور ادارہ جاتی تعاون کی پیشکش بھی کی ہے۔ کانفرنس کا انعقاد سعودی عرب اور فرانس کے اشتراک سے ہوا، جبکہ امریکہ اور اسرائیل نے اس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کانفرنس کے آغاز میں دو ریاستی حل کو ناگزیر قرار دیا، جبکہ فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ صرف سیاسی مذاکرات ہی دیرپا حل کا راستہ ہیں۔

