برلن (مشرق نامہ)– جرمنی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر غزہ میں انسانی بحران میں بہتری نہ آئی تو وہ اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کو تیار ہے۔ یہ بات جرمن حکومت کے ترجمان نے چانسلر فریڈرک مرز اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک گفتگو کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہی۔
ترجمان نے کہا کہ چانسلر نے وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے گفتگو میں واضح طور پر کہا کہ اگر پیش رفت نہ ہوئی تو وفاقی حکومت دباؤ میں اضافہ کرنے کو تیار ہے۔ تاہم ترجمان نے ان ممکنہ اقدامات کی وضاحت نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اصولی طور پر ہم مزید اقدامات کے لیے تیار ہیں، اور یہی آج سہ پہر ہونے والے سیکیورٹی اجلاس کا مقصد بھی ہے۔
گزشتہ روز، چانسلر مرز نے نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری جنگ بندی کے لیے اپنی پوری کوشش کریں اور غزہ کی بھوکی شہری آبادی کو فوری طور پر انسانی امداد فراہم کریں۔
جرمن حکومت کے بیان میں کہا گیا کہ یہ امداد جلد، محفوظ انداز میں اور درکار مقدار میں عام شہریوں تک پہنچنی چاہیے۔
واضح رہے کہ جرمنی کی جانب سے اسرائیل کی مسلسل حمایت حالیہ دنوں میں تنقید کی زد میں آئی ہے، خاص طور پر جب غزہ میں اسرائیلی محاصرے کے باعث قحط کی صورت حال سنگین تر ہوتی جا رہی ہے۔

