جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیتھائی لینڈ اور کمبوڈیا نے 'فوری اور غیر مشروط' جنگبندی پر اتفاق...

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا نے ‘فوری اور غیر مشروط’ جنگبندی پر اتفاق کر لیا: ملائیشیا
ت

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– ملائیشین وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے اعلان کیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے ہمسایہ ممالک تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان "فوری اور غیر مشروط” جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جو آج شام 17:00 جی ایم ٹی سے نافذ العمل ہو گی۔

انور ابراہیم نے کہا کہ تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیرِ اعظم پھومتھم وچایچائی اور کمبوڈین وزیرِ اعظم ہُن مانت نے پیر کے روز ملائیشیا کے انتظامی دارالحکومت پُتراجایا میں ان کے سرکاری رہائش گاہ پر جنگ بندی کے مذاکرات کیے۔

انہوں نے مذاکرات کے بعد کہا کہ ہم نے ایک نہایت مثبت پیش رفت دیکھی ہے جو تھائی لینڈ اور کمبوڈیا دونوں کے لیے خوش آئند ثابت ہو گی۔

یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان جاری سرحدی جھڑپوں کو روکنے کے لیے بلائے گئے تھے، جن میں اب تک کم از کم 35 افراد ہلاک اور 2,70,000 سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

اس ملاقات میں امریکہ اور چین کے سفرا بھی شریک تھے۔

انور ابراہیم نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی قیادت دونوں ممالک کے رہنماؤں اور ملائیشیا کے ساتھ رابطے میں تھے تاکہ پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔

انہوں نے پیر کو مزید کہا کہ دونوں ممالک کی افواج کے کمانڈروں کے درمیان منگل کے روز ملاقات ہو گی تاکہ جنگ بندی کے عملی اقدامات طے کیے جا سکیں۔

یہ کشیدگی کم کرنے اور امن و سلامتی کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے، انور نے کہا۔

کمبوڈین وزیرِ اعظم ہُن مانت نے مذاکرات کو "بہت اچھا اور نتیجہ خیز” قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی "مزید جانی نقصان کو فوری طور پر روک دے گی”۔

انہوں نے صدر ٹرمپ کے "فیصلہ کن کردار” کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے مذاکرات اور معاہدے کی راہ ہموار ہوئی، اور امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی ممکن ہو گی۔

پھومتھم، جو مذاکرات سے قبل کمبوڈیا کی نیت پر شکوک کا اظہار کر چکے تھے، نے جنگ بندی کو دونوں فریقوں کی "نیک نیتی سے مکمل کرنے” کی امید ظاہر کی۔

الجزیرہ کے نمائندے ٹونی چَینگ نے تھائی لینڈ کے سرحدی صوبے سورِن سے رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی خبر ان ہزاروں متاثرہ افراد کے لیے باعثِ اطمینان ہے جو شدید جھڑپوں کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں، اور وہ شدت سے اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں۔

چَینگ نے یہ بھی بتایا کہ مذاکرات کے آغاز سے کچھ دیر قبل تک بھی گولہ باری جاری تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مذاکرات کے بعد بھی توپ خانے کی گولہ باری کی آوازیں سنی ہیں، اور تھائی لینڈ میں بڑی فوجی نقل و حرکت جاری ہے۔

تھائی فوج کے ترجمان کرنل رچا سُکسوانون نے پیر کو بتایا کہ سرحد پر جھڑپیں ہوئیں، جب کہ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کمبوڈیا کے صوبے اوڈار میچے کے شہر سامرونگ میں صبح کے وقت گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں۔

اتوار کو تھائی لینڈ نے کہا کہ کمبوڈین راکٹ کے حملے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا۔

تھائی فوج نے یہ بھی الزام لگایا کہ کمبوڈین سنائپرز سرحدی تنازع کے شکار مندروں میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور کمبوڈین فوج نے تھائی علاقے پر راکٹ حملے کیے۔

کمبوڈین وزارتِ دفاع کی ترجمان مالی سوچیتا نے پیر کو کہا کہ تھائی فوج نے "کثیر تعداد میں فوجی تعینات کیے” اور کمبوڈین علاقوں پر "بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی”۔

انہوں نے کہا کہ پیر کی صبح طلوعِ آفتاب سے قبل تھائی فوج نے تاموئن تھوم اور تَکوی مندروں کے قریب علاقوں کو نشانہ بنایا، جنہیں کمبوڈیا اپنی ملکیت سمجھتا ہے، اگرچہ تھائی لینڈ ان پر دعویٰ رکھتا ہے۔

سوچیتا نے یہ بھی الزام لگایا کہ تھائی فوج نے فضائیہ کے ذریعے کمبوڈین علاقوں پر دھوئیں کے بم گرائے اور بھاری اسلحہ استعمال کیا، لیکن کمبوڈین فوج نے کامیابی سے حملے کو پسپا کر دیا.

مقبول مضامین

مقبول مضامین