غزہ (مشرق نامہ) – غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود باسل نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ صبح سویرے سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 60 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل تاحال شدید رکاوٹ کا شکار ہے اور آج صرف دس کے قریب ٹرک امداد لے کر داخل ہوئے ہیں۔
انہوں نے فضائی امداد کی فراہمی کو غیر مؤثر قرار دیا اور غزہ کی مجموعی صورتحال کو انتہائی المناک بتایا۔
محمود باسل نے دنیا کو متنبہ کیا کہ میڈیا میں دکھائی جانے والی امدادی سرگرمیوں کے مناظر دھوکہ ہیں، اور نام نہاد "انسانی جنگ بندی” محض دکھاوا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے اداروں کو مکمل رسائی دینے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ امداد لا سکیں اور اس کی تقسیم کر سکیں۔
ایک علیحدہ بیان میں، حماس کے رہنما علی براکہ نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں جرائم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انسانی جنگ بندی کے دعوے کو جھوٹے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زمینی حقائق واضح کرتے ہیں کہ یہ جنگ بندی درحقیقت ایک فریب ہے جس کا مقصد عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا اور قتل عام کو جاری رکھنا ہے۔
علی براکہ نے اسرائیلی افواج پر الزام لگایا کہ وہ امداد کے منتظر عام شہریوں پر براہ راست فائرنگ کر رہی ہیں، جو کہ ایک سنگین جنگی جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے وہ جنگ بندی نہیں بلکہ نسل کشی اور بھوک کی مہم ہے جس کی قیادت صہیونی فاشسٹ حکومت کر رہی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا تاکہ قتل عام کو روکا جا سکے، محاصرہ ختم ہو، زمینی راستے مستقل طور پر کھولے جائیں اور بغیر کسی رکاوٹ کے امداد فراہم کی جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا کی خاموشی جرم میں شراکت کے مترادف ہے، اور تاریخ ان تمام افراد کو معاف نہیں کرے گی جو اس ظلم پر خاموش رہے یا اس میں شریک رہے۔
اسرائیلی فوجی کارروائیاں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک مسلسل 660 دنوں سے جاری ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ محاصرہ بدستور برقرار ہے۔
اسرائیلی فوج امدادی مراکز پر بھی حملے کر رہی ہے، جس کی وجہ سے غذا اور پانی کے متلاشی شہری موت کے منہ میں جا رہے ہیں، جو کہ عالمی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
غزہ کی حکومت کے میڈیا دفتر کے مطابق، غزہ میں روزانہ کم از کم 600 امدادی ٹرکوں کی ضرورت ہے جن میں بچوں کا دودھ، ادویات اور ایندھن شامل ہیں، تاکہ محاصرے اور 148 دنوں سے بند بارڈر کراسنگ کے دوران بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 88 شہداء، جن میں 12 کی لاشیں ملبے سے نکالی گئیں، اور 374 زخمی اسپتالوں میں پہنچائے گئے۔

