مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– نائجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما شیخ ابراہیم زکزکی نے فلسطینی کاز کے لیے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے غزہ میں انسانی بحران کی شدید مذمت کی ہے اور اسرائیل کے جاری محاصرے میں مغربی اور عرب حکومتوں کی شراکت داری کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایران پریس کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں شیخ زکزکی نے اعلان کیا کہ "قتل عام کی کوئی بھی حد” ان کی تحریک کو یوم القدس کی ریلیاں منعقد کرنے یا مظلوم فلسطینی عوام سے یکجہتی کے اظہار سے باز نہیں رکھ سکتی۔ انہوں نے صہیونی حکومت پر قحط کو نسل کشی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کیا اور عالمی برادری کی خاموشی کو اجتماعی اذیت کے سامنے سنگدل غفلت قرار دیا۔
شیخ نے کہا کہ ہم قاتلوں کو ایک پیغام دیتے ہیں: ہم کبھی یوم القدس کو ترک نہیں کریں گے۔ ہم کبھی مظلوم فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی سے باز نہیں آئیں گے، چاہے وہ ہم پر حملہ کریں۔ ہم ہمیشہ میدان میں نکلیں گے۔
انہوں نے نائجیریا کی حکومت کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جس نے اسلامی تحریک کے 185 ارکان کو تاحال قید میں رکھا ہوا ہے، جن میں 12 خواتین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 2024 کے یوم القدس جلوس کے دوران شہید کیے گئے 21 مظاہرین کی میتیں بھی حکومت نے ان کے اہل خانہ کو اسلامی طریقے سے تدفین کے لیے نہیں سونپیں۔
یاد رہے کہ نائجیریا میں اسلامی تحریک ہر سال یوم القدس کی ریلیاں نکالتی ہے، جو اکثر حکومتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے شدید تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ 2014 کا قتل عام اس تحریک کی تاریخ کے بدترین واقعات میں شمار ہوتا ہے، جس کے بعد سے ریاست اور اسلامی تحریک کے تعلقات کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔
شیخ زکزکی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ میں جاری انسانی بحران پر بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل قحط کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اور شہریوں کو جان بوجھ کر اس وقت نشانہ بنایا جا رہا ہے جب وہ خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس محاصرے نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا ہے اور ہزاروں جانیں نگل چکا ہے، جبکہ کسی بھی فوری ریلیف کے آثار نظر نہیں آتے۔

