غزه (مشرق نامہ) – فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید تنقید کی ہے جس میں انہوں نے غزہ میں قحط کے وجود سے انکار کیا تھا۔ حماس کے سینئر رہنما عزت الرشق نے اتوار کی شب جاری بیان میں کہا کہ ٹرمپ کا بیان اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بیانیے اور جھوٹ کی کھلی تکرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم صدر ٹرمپ کے ان بیانات پر حیران ہیں جو ثالثوں کی جانب سے حماس کے مؤقف کے بارے میں کی جانے والی تشخیص کے برعکس اور مذاکراتی عمل سے مطابقت نہیں رکھتے۔
عزت الرشق نے زور دیا کہ ٹرمپ کا قحط سے انکار اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی تنظیموں اور بچوں کی بھوک سے ہونے والی اموات کے حقائق کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔
یہ وہی قحط ہے جس کا اعتراف اقوام متحدہ خود کر چکی ہے، اور جس میں محاصرہ اور غذائی و طبی امداد کی بندش کے باعث درجنوں بچوں کی جانیں جا چکی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کے ان بیانات سے اسرائیلی حکومت کو اپنی نسلی صفایا اور قحط کی مہم کو جاری رکھنے کا جواز ملتا ہے۔
ہم امریکی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قابض ریاست کو بری الذمہ قرار دینے اور اس کی جنگی مہم کو تحفظ دینے سے باز رہے، جس میں دو ملین سے زائد غزہ کے شہری نشانہ بن رہے ہیں۔
امریکی الزامات مسترد، اسرائیل پر امدادی قافلوں میں بدامنی پھیلانے کا الزام
عزت الرشق نے ان امریکی دعوؤں کو بھی سختی سے مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ حماس انسانی امداد کا غلط استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے ان الزامات کو "بے بنیاد اور ناقابلِ اعتبار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ
اسرائیل خود امدادی قافلوں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنا کر جان بوجھ کر بدامنی پھیلا رہا ہے۔
انہوں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی بیانیے کی تکرار سے باز آئے اور غزہ میں جاری مبینہ نسل کشی کے حوالے سے اپنی اخلاقی اور انسانی ذمہ داریاں قبول کرے ـ
ٹرمپ کا حماس پر الزام: "وہ مرنا چاہتے ہیں”
گزشتہ جمعہ کو صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں مذاکراتی تعطل کی ذمہ داری حماس پر ڈال دی اور کہا کہ میرا خیال ہے کہ حماس واقعی کوئی معاہدہ نہیں چاہتی، وہ مرنا چاہتے ہیں۔
غزہ میں بھوک کا بحران: لاکھوں بچے خطرے میں
غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کے مطابق غزہ ایک بے مثال انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جہاں 100,000 سے زائد بچے، جن میں 40,000 نوزائیدہ شامل ہیں، شدید بھوک کے خطرے سے دوچار ہیں۔
اب تک قحط اور غذائی قلت کے باعث 122 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں 83 بچے شامل ہیں، اور خدشہ ہے کہ جاری ناکہ بندی کے باعث یہ تعداد تیزی سے بڑھے گی۔
اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کے لیے مخصوص خوراک کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جس سے ہزاروں زندگیاں خطرے میں ہیں۔
فلسطینی این جی او نیٹ ورک: یہ بحران نہیں، نسل کشی ہے
فلسطینی این جی او نیٹ ورک (PNGO) نے اعلان کیا ہے کہ غزہ مکمل قحط کی لپیٹ میں ہے۔ تنظیم کے مطابق 91 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے، جب کہ اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور ناکہ بندی اس صورتحال کو مزید بدتر بنا رہی ہے۔
PNGO کے مطابق٬ 345,000 افراد مرحلہ 5 قحط (یعنی قحط کی بدترین صورت) کا سامنا کر رہے ہیں۔
60,000 بچے فوری غذائی علاج کے محتاج ہیں۔
92 فیصد دو سال سے کم عمر بچے اور دودھ پلانے والی مائیں مناسب خوراک سے محروم ہیں، جس سے پوری نسل کے ناقابلِ تلافی نقصان کا خطرہ ہے۔
PNGO نے کہا کہ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں، بلکہ منظم قحط پالیسی ہے۔
اسرائیلی جنگ اور محاصرہ: 59 ہزار شہید، 2.2 ملین بے گھر
7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں:
59,733 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
144,477 زخمی ہوئے۔
تقریباً 2.2 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے آمد و رفت پر مکمل پابندی، خوراک، صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت نے غزہ کو ایک مکمل انسانی تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے۔

