امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان نئے تجارتی معاہدے نے فرانس اور ہنگری سمیت کئی یورپی ممالک میں شدید سیاسی ردعمل کو جنم دیا ہے، جہاں اسے واشنگٹن کے سامنے "ذلت آمیز جھکاؤ” اور "یورپی خودمختاری پر کاری ضرب” قرار دیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی وزیراعظم فرانسوا بایرو نے اس معاہدے کو "یورپ کے لیے ایک سیاہ دن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ
یہ ایک سیاہ دن ہے جب آزاد اقوام کا اتحاد، جو اپنے اقدار اور مفادات کے دفاع کے لیے قائم ہوا، سرِ تسلیم خم کر دے۔
انہوں نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا۔
یہ معاہدہ، جو اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لائن کے درمیان طے پایا، یورپی برآمدات پر کم از کم 15 فیصد درآمدی ٹیکس عائد کرتا ہے۔ اگرچہ اس سے مکمل تجارتی جنگ کو ٹالنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن فرانس میں اسے سیاسی خودسپردگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے تاحال اس معاہدے پر کوئی ردعمل نہیں دیا، مگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور پارلیمانی اراکین نے بھرپور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
انتہائی دائیں بازو کی جماعت "نیشنل ریلی” کے سربراہ جورڈن بارڈیلا نے کہا کہ ارسلولا وان ڈیر لائن نے یورپ کی تجارتی شکست و ریخت کی نگرانی کی۔
جبکہ میرین لی پین نے اس معاہدے کو "سیاسی، معاشی اور اخلاقی شکست” قرار دیا۔
حتیٰ کہ صدر میکرون کی جماعت کے قریبی پارلیمانی اتحادی بھی خاموش نہیں رہے۔ قومی اسمبلی کی یورپی امور کمیٹی کے سربراہ پیئر الیگزاندر آنگلاڈ نے کہا کہ یہ معاہدہ ہمارے حریفوں کے لیے کمزوری کا پیغام ہے۔ یورپی رہنماؤں کو فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
وزیراعظم بایرو کی ڈیموکریٹک موومنٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی فیلیپ لاتومبے نے کہا:
ہم نے تجارتی جنگ سے بچنے کے لیے اپنی خودمختاری کے کئی شعبے قربان کر دیے ہیں۔ یہ مجرمانہ تابع داری کی قیمت پر حاصل شدہ معاہدہ ہے۔
اوربان کا طنز: "ٹرمپ نے وان ڈیر لائن کو ناشتے میں کھا لیا”
ہنگری کے وزیر اعظم وِکٹر اوربان نے اس معاہدے پر طنز کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ارسولا وان ڈیر لائن کو "ناشتے میں کھا لیا۔”
اپنے لائیو خطاب میں اوربان نے اس معاہدے کا موازنہ برطانیہ اور امریکہ کے سابق تجارتی معاہدے سے کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کے طے کردہ شرائط "کمتر اور نقصان دہ” ہیں۔
انہوں نے وان ڈیر لائن کو ایک "کمزور مذاکرات کار” قرار دیا اور خبردار کیا کہ یہ معاہدہ ہنگری کی برآمداتی معیشت، بالخصوص گاڑیوں اور دوا سازی کے شعبوں، کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
یورپی یونین کا دفاع، مگر داخلی خلفشار نمایاں
یورپی حکام نے اس معاہدے کو تجارتی استحکام کی بحالی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا ہے، لیکن پورے یورپ میں عوامی اور سیاسی سطح پر اسے یورپی یونین کی "امریکہ پر بڑھتی ہوئی انحصاری” کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس معاہدے پر ہونے والے شدید ردعمل نے یورپی یونین کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے، جہاں کئی حلقوں کی جانب سے یورپ کی امریکہ کے ساتھ معاشی و تزویراتی وابستگی پر ازسرنو غور کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔

