جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیایران کا یورپ کو اسنیپ بیک پابندیوں پر سخت انتباہ

ایران کا یورپ کو اسنیپ بیک پابندیوں پر سخت انتباہ
ا

تہران (مشرق نامہ) – ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کی کوششوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان یورپی ممالک کو ایسا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔

پیر کو تہران میں ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران بقائی نے کہا کہ ایسا کوئی حق موجود نہیں، اور ہم اس مسئلے کی اساس ہی کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم نے اپنا مؤقف ان تک پہنچا دیا ہے۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی – جو ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کے فریق تھے – اب اس معاہدے میں شامل "اسنیپ بیک” میکانزم کو فعال کر کے پرانی پابندیاں بحال کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم بقائی نے واضح کیا کہ ان تینوں ممالک نے گزشتہ ماہ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی بلا اشتعال جنگ کی حمایت کر کے نہ صرف معاہدے میں اپنی حیثیت کھو دی، بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی ساکھ کو بھی مجروح کیا۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا اب یہ ممالک خود کو اس معاہدے کا فریق بھی کہہ سکتے ہیں؟

بقائی نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف اسنیپ بیک میکانزم کو فعال کیا گیا تو تہران مناسب ردعمل دے گا۔ ایرانی پارلیمان پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ اگر پابندیاں دوبارہ لگائی گئیں تو ایران این پی ٹی (جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ) سے دستبرداری پر غور کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس معاہدے کے رکن نہیں رہ سکتے جب ہمیں اپنے جائز حقوق، بشمول یورینیم افزودگی، سے محروم رکھا جا رہا ہو۔

IAEA (بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی) سے تعاون کے حوالے سے بقائی نے کہا کہ کشیدگی کے باوجود ایران اب بھی حفاظتی معاہدوں کا فریق ہے اور ایک نیا پروٹوکول طے کرنے کے لیے مذاکرات کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران نے حال ہی میں ایجنسی کو اپنے جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت محض خیرسگالی کے جذبے کے تحت دی،
"آئندہ دو ہفتوں میں ایجنسی کا ایک اعلیٰ اہلکار ایران کا دورہ کرے گا۔”

ایرانی میزائل پروگرام اور خطے میں ایران کے اثر و رسوخ پر یورپی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ہماری دفاعی صلاحیتوں پر کوئی بات نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ یورپی فریقین سے ہمارے مذاکرات کی نوعیت بالکل واضح ہے: وہ پابندیوں کے خاتمے اور جوہری مسئلے پر مرکوز ہیں۔ غیر متعلقہ معاملات کو درمیان میں لانا ان کی الجھن کی علامت ہے۔

بقائی نے زور دیا کہ ایران نے اسرائیل و امریکا کے مشترکہ حملے کا مؤثر دفاع کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ملک کی دفاعی قوت اس کے سائنسدانوں کی تیار کردہ صلاحیتوں پر منحصر ہے، اور اس پر کسی قسم کی گفت و شنید ممکن نہیں۔

امریکا کے ساتھ مذاکرات پر بھی انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا واشنگٹن سے بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں، اور تمام فیصلے قومی مفادات کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔

غزہ میں اسرائیلی جارحیت: ایران او آئی سی کے ہنگامی اجلاس کی کوششوں میں مصروف

غزہ میں جاری جنگ سے متعلق بقائی نے کہا کہ یہ اس وقت بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر سب سے سنگین مسئلہ ہے۔

انہوں نے اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے "بھوک اور پیاس کو بطور ہتھیار” استعمال کرنے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایران علاقائی شراکت داروں اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے ساتھ مل کر غزہ میں جاری نسل کشی پر ہنگامی اجلاس کے انعقاد کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسلسل بمباری دراصل فلسطینی قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔

یورپ کی دوہری پالیسی پر تنقید، یونیسکو سے امریکی انخلا اسرائیل کی پشت پناہی کا حربہ قرار

فرانس کی جانب سے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کی منصوبہ بندی پر تبصرہ کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ یہ دعویٰ اس وقت ناقابلِ فہم ہے جب یہی یورپی ممالک غزہ میں اسرائیلی خونریزی کی حمایت کر رہے ہیں۔

جب آپ 60 ہزار بے گناہ انسانوں کو قتل کر دیتے ہیں، اور غزہ کو ناقابلِ رہائش بنا دیتے ہیں، تو ریاست قائم کرنے کی تمام شرائط کو خود ہی تباہ کر کے پھر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا دعویٰ کس منطق سے کرتے ہیں؟

امریکا کے حالیہ یونیسکو (UNESCO) سے انخلا پر بھی انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کا یہ قدم اقوام متحدہ کے ادارے پر جانبداری کا الزام لگا کر اسرائیل کو مزید جری بنانے کا حربہ ہے۔

زاہدان حملہ: ایران نے اسرائیلی کردار کو خارج از امکان قرار نہیں دیا

ایران کے جنوب مشرقی شہر زاہدان میں حالیہ دہشتگرد حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں چھ افراد جاں بحق ہوئے، بقائی نے کہا کہ
"یہ حملہ اسرائیلی جرائم کی تسلسل میں واقع ہوا ہے، اور یہ صہیونی حکومت ایران کو غیر مستحکم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین