جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیصرف 73 امدادی ٹرک داخل، محصور غزہ میں قحط مزید شدت اختیار...

صرف 73 امدادی ٹرک داخل، محصور غزہ میں قحط مزید شدت اختیار کرگیا
ص

غزہ (مشرق نامہ) – غزه کے سرکاری میڈیا دفتر نے خبردار کیا ہے کہ محصور علاقے میں قحط کی شدت اور دائرہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جب کہ اسرائیلی ناکہ بندی اور امداد کی محدود فراہمی صورتحال کو تباہ کن حد تک بگاڑ رہی ہے۔

اتوار کو جاری بیان میں دفتر نے کہا کہ آج صرف 73 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہو سکے، جب کہ امدادی سامان کی فضائی ترسیل فعال جنگی علاقوں میں کی گئی، جس کی وجہ سے متاثرہ افراد تک اس کی رسائی انتہائی مشکل ہوگئی۔

بیان میں بتایا گیا کہ اسرائیلی قابض افواج کی نگرانی میں بیشتر امدادی سامان لوٹ لیا گیا، جب کہ غزہ میں منظم تقسیم مراکز تک امداد کی ترسیل میں رکاوٹیں دانستہ طور پر ڈالی جا رہی ہیں۔ دفتر کے مطابق اس عمل نے پہلے ہی سنگین انسانی بحران کو مزید شدید کر دیا ہے۔

حکومتی میڈیا دفتر نے دعویٰ کیا کہ حالیہ تین فضائی امدادی آپریشنز کا مجموعی سامان محض دو امدادی ٹرکوں کے برابر بھی نہ تھا، اور ان کارروائیوں کو ایک "مضحکہ خیز تماشہ” قرار دیا جس میں عالمی برادری جھوٹے وعدوں اور گمراہ کن دعوؤں کے ذریعے شریک جرم ہے۔

بیان کے اختتام پر زور دیا گیا کہ صورتحال کا واحد حقیقی حل یہ ہے کہ تمام زمینی گزرگاہیں فوری طور پر کھولی جائیں، ناکہ بندی کا مکمل خاتمہ کیا جائے، اور غذائی اجناس و شیرخواروں کے دودھ سمیت تمام بنیادی اشیائے ضرورت کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جائے۔ دفتر نے خبردار کیا کہ امداد کی مسلسل تاخیر اور ناکہ بندی کا تسلسل تباہ کن نتائج کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

قحط سے مزید 6 فلسطینی شہید، بچوں کی اموات میں اضافہ

غزہ کی اسپتالوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں قحط اور غذائی قلت کے باعث مزید چھ فلسطینیوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ یوں بھوک سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 133 ہو گئی ہے، جن میں 87 بچے ہیں۔

فلسطینی ہلال احمر اور غزہ کا سرکاری میڈیا دفتر عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ قحط کی شدت کو روکا جا سکے اور اسرائیلی ناکہ بندی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

ہلال احمر نے خبردار کیا کہ غزہ میں بنیادی ضروریات — خوراک، پانی، اور ادویات — کی شدید قلت نے صورت حال کو سنگین جنگی جرائم کی شکل دے دی ہے، جب کہ عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

تنظیم نے فوری اور مستقل جنگ بندی، تمام زمینی گزرگاہوں کی غیرمشروط بحالی، اور امدادی کارکنوں کو محفوظ رسائی کی فراہمی پر زور دیا۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ فضائی امداد غیر مؤثر اور شہریوں کے لیے خطرناک ثابت ہوئی ہے، اس لیے زمینی امداد کو ترجیح دی جائے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین