مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– سینکڑوں یہودی ربیوں نے صہیونی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں فاقہ کشی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی بند کرے۔ ربیوں نے شہری ہلاکتوں اور غذائی قلت کو اجتماعی قتل قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔
اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، دنیا بھر کی مختلف یہودی مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں ربیوں نے ایک مشترکہ عوامی خط میں صہیونی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوراً غزہ کی پٹی میں فاقہ کشی کی حکمت عملی کو ترک کرے۔ یہ بیان عالمی یہودی مذہبی حلقوں کے اندر بڑھتی ہوئی اخلاقی مزاحمت کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
ربیوں نے واضح کیا کہ ہم اس وقت خاموش نہیں رہ سکتے جب غزہ میں اموات کا سلسلہ جاری ہے اور غذائی قلت بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات "شہریوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کے اجتماعی قتل” کے مترادف ہیں۔
حیفا میں مظاہرہ اور گرفتاریوں کی لہر
اسی تناظر میں، مقبوضہ شہر حیفا میں گزشتہ جمعرات کو اسرائیلی قابض افواج نے ایک پرامن احتجاج کے دوران تقریباً 24 کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ مظاہرین غزہ میں جاری قحط اور بڑے پیمانے پر تباہی کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے اور جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
احتجاج میں شریک کارکنان نے غزہ کے بچوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور اجتماعی سزا اور منظم فاقہ کشی کے خلاف نعرے لگائے۔
یہ احتجاج اور ربیوں کا بیان اس بات کا عکاس ہے کہ غزہ میں انسانی المیے کے خلاف اندرونی اور بین الاقوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، جہاں شہری اسرائیلی محاصرے اور امدادی پابندیوں کے باعث شدید اذیت کا شکار ہیں۔
’ایسے ریاست کا وجود کا کوئی جواز نہیں‘
گزشتہ برس، صہیونی حکومت کے سب سے اعلیٰ سیفاردی ربیوں نے باقاعدہ طور پر یشیوا طلبہ کو فوجی بھرتی مراکز جانے سے روکنے کی ہدایت جاری کی۔ کنیسٹ میں لازمی فوجی بھرتی کے قانون پر بحث کے بعد ربیوں نے کہا کہ طلبہ کو بجٹ کٹوتیوں اور قید کو برداشت کر لینا چاہیے لیکن اسرائیلی فوج سے تعاون نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے اس قانون کو "توریت کی تباہی کی کوشش” قرار دیا۔
حریدی یہودیوں کے اہم مذہبی رہنما، ربی ڈوو لینڈاؤ نے سیکیورٹی وزیر یوآو گیلنٹ کے فیصلے—جس میں تین ہزار حریدی یہودیوں کو فوجی خدمات کے لیے بلایا گیا—کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ریاست کا وجود کا کوئی جواز نہیں جو یشیوا کے طلبہ کو جبری بھرتی کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوج ہمارے خلاف برسرپیکار ہے اور وہ توریت کے طلبہ کے حقوق چھیننا چاہتی ہے، جو خودکشی کے مترادف ہے۔ ایسی حکومت اور ایسی فوج کے ہوتے ہوئے مزاحمت کی کیا بنیاد باقی رہ جاتی ہے؟ یہ حکومت ہمارے مکمل خلاف ہے۔
جب لازمی فوجی بھرتی کے قانون کے حوالے سے حریدی برادری کو نشانہ بنایا گیا تو اعلیٰ ربیوں نے اجلاس بلا کر طلبہ کو واضح ہدایت دی کہ وہ فوجی حکم ناموں کو نظرانداز کریں اور بھرتی مراکز نہ جائیں۔
ربی کا پیروکاروں کو صہیونی اداروں سے علیحدگی کا حکم
فروری میں دی یروشلم پوسٹ نے خبر دی تھی کہ ربی ڈوو لینڈاؤ، جو کہ لِتھوانیائی حریدی برادری کے سینیئر رہنما ہیں، نے ڈیگل ہتوراة سیاسی جماعت کے نمائندوں کو حکم دیا کہ وہ تمام صہیونی اداروں سے علیحدگی اختیار کریں۔ ان کے بقول صہیونیت کا نظریہ یہودی قوم کو سیکولر، غیر مذہبی اور خدائی اقتدار سے بغاوت پر مبنی بنیادوں پر قائم کرنے کی کوشش ہے۔
یومیہ مذہبی اخبار یتید نئمان میں شائع ایک خط میں لینڈاؤ نے لکھا کہ صہیونیت ایک ایسی تحریک ہے جس کا مقصد یہودی قوم کو مکمل طور پر سیکولر بنیادوں پر قائم کرنا ہے، جو کہ الحاد اور خدائی حکمرانی سے انکار پر مبنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اداروں میں شرکت کی کوئی شرعی گنجائش نہیں، نہ ان میں کوئی منصب سنبھالنے کی اجازت ہے اور نہ ہی ان کے انتخابات میں ووٹ دینے کی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ان اداروں میں شمولیت خدا کے نام کی بے حرمتی کے مترادف ہے اور روایتی یہودی اقدار کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔
دی یروشلم پوسٹ کے مطابق لینڈاؤ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب صہیونی اداروں میں مذہبی و حریدی برادری کے کردار پر وسیع بحث جاری ہے۔ یہ ادارے، جیسے کہ ورلڈ صہیونسٹ آرگنائزیشن (WZO)، جو تھیوڈور ہرزل نے 1897 میں قائم کی تھی، یہودی ایجنسی، جیوئش نیشنل فنڈ (JNF) اور کرن ہیسود جیسے کلیدی اداروں کو چلاتی ہے۔

