جمعرات, فروری 19, 2026
ہومٹیکنالوجیصہیونی انٹیلیجنس کی نئی اختراع: مصنوعی ذہانت سے جنسی بلیک میل کا...

صہیونی انٹیلیجنس کی نئی اختراع: مصنوعی ذہانت سے جنسی بلیک میل کا ہتھیار
ص

تحریر: کِٹ کلارین برگ

اسرائیلی انٹیلیجنس یونٹ 8200 کے سابق اہلکاروں کی تیار کردہ ویڈیو ٹیکنالوجی اب ایک ایسے دور کی بنیاد رکھ رہی ہے جہاں جنسی بلیک میل جیسے حساس انٹیلیجنس آپریشنز میں انسانی مداخلت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

19 جولائی کو اسرائیلی نیوز ویب سائٹ وائی نیٹ نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی آرٹیفیشل انٹیلیجنس اسٹارٹ اپ ڈیکارٹ نے مہینوں کی تیاری اور فنڈنگ کے بعد ایک "انقلابی حقیقی وقت کی ویڈیو ٹرانسفارمیشن ٹیکنالوجی” متعارف کروا دی ہے۔ میراژ (Mirage) نامی اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ریکارڈ شدہ یا لائیو ویڈیو کو مسلسل، بغیر کسی وقفے کے، اعلیٰ معیار اور شاندار استحکام کے ساتھ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس "انوکھی” ٹیکنالوجی کے پیچھے ممکنہ خفیہ مقصد — یعنی بغیر کسی خطرے کے، جعلی اور قائل کن بلیک میلنگ ویڈیوز تیار کرنا — صاف نظر آتا ہے۔

وائی نیٹ کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ویڈیو کو "ایک جامد اور پہلے سے ریکارڈ شدہ شے سے نکال کر ایک متحرک، لچکدار اور انٹرایکٹو میڈیم میں تبدیل کرتی ہے”، جس سے برانڈز اور مواد تخلیق کرنے والے افراد کے لیے نئے کاروباری امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ براڈکاسٹرز اور ایڈورٹائزرز کے لیے بھی اس کا استعمال ممکن ہے، جو براہِ راست نشریات کے دوران ہی مخصوص سامعین کے لیے مختلف ورژنز تیار کر سکتے ہیں۔

تاہم، اسی رپورٹ میں دبے لفظوں میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ڈیکارٹ کی بنیاد 2023 میں ڈین لیٹرزڈورف اور موشے شالیو نے رکھی — دونوں اسرائیلی قابض افواج کی بدنامِ زمانہ یونٹ 8200 میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یہ خفیہ یونٹ سگنلز انٹیلیجنس، کوڈ توڑنے، سائبر جنگ، اور نگرانی جیسے خفیہ مشن انجام دیتا ہے۔ یونٹ 8200 کے متعدد سابق اہلکاروں نے بعد میں بڑی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بنیاد رکھی، خصوصاً امریکی سیلیکون ویلی میں۔

ڈیکارٹ نے باضابطہ آغاز کے صرف دو ماہ بعد ہی 5 کروڑ 30 لاکھ ڈالر فنڈنگ حاصل کر لی، اور اس کی مالیت 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔ سرمایہ کاری کرنے والوں میں زیو وینچرز بھی شامل ہے، جو اسرائیلی-امریکی اورن زیو کی زیرِ قیادت ہے۔ اس کی دیگر سرمایہ کاریوں میں رِیور سائیڈ نامی اسرائیلی آڈیو ویڈیو کمپنی بھی شامل ہے، جہاں بھی یونٹ 8200 کے سابق اہلکاروں کی کثرت ہے۔

ٹیکنیون — اسرائیل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے بھی ڈیکارٹ سے قریبی تعلق قائم کیا ہے۔ دونوں نے مشترکہ AI ریسرچ سینٹر قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ٹیکنیون کا ایلیٹ آنرز پروگرام اب "ٹیکنیون-ڈیکارٹ آنرز پروگرام” کہلائے گا۔ یہ ادارہ اسرائیلی جنگی و انٹیلیجنس اداروں، بشمول بدنام زمانہ البِٹ سسٹمز، سے کئی معاہدوں میں شامل رہا ہے۔ یہی ادارہ اسرائیلی D9 بُلڈوزر کو دور سے کنٹرول کرنے جیسی ہولناک ٹیکنالوجیز تیار کرنے میں بھی پیش پیش رہا — جو کہ فلسطینی گھروں کی مسماری میں استعمال ہوتا ہے۔

یونٹ 8200 کے بعض سابق اہلکار ٹوکا نامی کمپنی سے بھی وابستہ ہیں، جو ایسے ٹولز بنا چکی ہے جو سیکیورٹی کیمروں کو شناخت کر کے ان میں داخل ہو کر ان کی لائیو فیڈ کو خاموشی سے تبدیل کر سکتی ہے۔ ٹوکا کی بنیاد سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود براک نے رکھی تھی، جو جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی رہا ہے — وہی ایپسٹین جس پر دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیوں کے لیے جنسی بلیک میلنگ کا مواد اکٹھا کرنے کا شبہ رہا ہے۔

ڈین لیٹرزڈورف نے وائی نیٹ کو بتایا کہ
میراژ ویڈیو کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اب مواد جامد نہیں رہا بلکہ زندہ، لچکدار اور صارف کے ساتھ باہمی اشتراک سے حقیقی وقت میں تخلیق پذیر ہے۔

پسِ پردہ ویڈیو پلیٹ فارمز کا کھیل

جنوری 2024 کی ایک رپورٹ میں وائی نیٹ نے یونٹ 8200 اور ڈیکارٹ کی تخلیق کے باہمی تعلق پر مزید روشنی ڈالی۔ رپورٹ کے مطابق لیٹرزڈورف اسرائیل کی پرانی سرمایہ دار اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں، اور اُن کے قریبی رشتہ دار مالیاتی اور دفاعی شعبے کے بڑے کھلاڑی ہیں۔ لیٹرزڈورف نے ٹیکنیون سے محض ساڑھے پانچ سال میں بیچلرز، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ مکمل کیے — یہ سب کچھ زوف (ZOF) میں خدمات کے ساتھ ساتھ کیا۔

موشے شالیو، جو کہ 14 سال تک یونٹ 8200 کا حصہ رہے، نے بتایا کہ سروس کے اختتام پر جب وہ تحقیق میں دلچسپی لینے لگے تو لیٹرزڈورف سے ملاقات ہوئی، جو انہیں یونٹ کی تمام ٹیکنالوجیز سے واقف کراتے رہے۔ اس "دماغ کو ہلا دینے والے تجربے” کے بعد دونوں نے کاروباری دنیا میں قدم رکھا۔

اسی دوران، 2024 کے اختتام پر، ڈیکارٹ نے "اوسیس” (Oasis) نامی ایک ڈیجیٹل تجرباتی ایپ متعارف کرائی، جو خالصتاً مصنوعی ذہانت کے ذریعے صارف کے کی بورڈ اور ماؤس کی حرکت کے مطابق ایک متغیر ورچوئل دنیا تخلیق کرتی ہے۔ صرف تین دنوں میں یہ ایپ لاکھوں صارفین تک پھیل گئی۔

وائی نیٹ کی جولائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ میراژ جلد ہی سماجی پلیٹ فارمز پر بھی استعمال کے لیے پیش کی جائے گی، جہاں صارفین لائیو براڈکاسٹ میں اپنا چہرہ یا ویڈیو میں عناصر حقیقی وقت میں بدل سکیں گے — بغیر کسی ماہر ایڈیٹنگ کی ضرورت کے۔

اس کے باوجود، اسرائیلی انٹیلیجنس سے اس ٹیکنالوجی کے واضح تعلق کا ذکر کہیں موجود نہیں۔ حالانکہ کمپنی کے بانیوں کی یونٹ 8200 کی وابستگی، غیر معمولی سرمایہ کاری، اور ذرائع ابلاغ میں "بے ساختہ” شہرت خود ایک بڑا اشارہ ہے۔

جنسی اسمگلنگ اور بلیک میلنگ کا نیا ماڈل

خفیہ ایجنسیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ اکثر جنسی مواد کے ذریعے اپنے ہدف کو قابو میں لانے کی کوشش کرتی ہیں۔ سی آئی اے جیسے ادارے ماضی میں دشمن رہنماؤں کی جعلی جنسی ویڈیوز تیار کرتے رہے ہیں تاکہ انہیں بدنام کیا جا سکے۔

جیفری ایپسٹین کی رہائش گاہوں میں خفیہ کیمرے اور مائیکروفون لگے ہونے کے ثبوت ملے ہیں، جو دنیا کے طاقتور افراد کی جنسی سرگرمیاں ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ ایپسٹین کی گرفتاری کے بعد انٹیلیجنس رپورٹر ایرک مارگولِس نے بتایا کہ وہ 1990 کی دہائی میں ایپسٹین کے نیویارک مینشن میں ایک دوپہر کے کھانے میں شریک ہوئے، جہاں ان سے ایک نوخیز لڑکی کے "نجی مساج” کی پیشکش کی گئی۔
مارگولِس کے مطابق:
"یہ پیشکش خفیہ ایجنسیوں کی روایتی ہنی ٹریپ تکنیک کی بو دے رہی تھی۔ وہاں ایک علیحدہ کمرہ بھی تھا جس میں مساج ٹیبل، لوشن اور یقینی طور پر کیمرے نصب تھے۔”

مارگولِس سمیت متعدد افراد نے کہا کہ وہ ایپسٹین کی مبینہ "خودکشی” پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ اسے "خاموش” کر دیا گیا تاکہ وہ مزید انکشافات نہ کر سکے۔ سروے بتاتے ہیں کہ صرف 16 فیصد امریکی شہری ایپسٹین کی خودکشی پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ 90 فیصد اس سے متعلق تمام شواہد کے منظر عام پر لائے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

آج، مصنوعی ذہانت پر مبنی میراژ اور ٹوکا جیسی ٹیکنالوجی پر بے مثال سرمایہ کاری اور ان کی تعریف اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ خفیہ ادارے اب "روایتی” ہنی ٹریپ طریقوں سے بچنا چاہتے ہیں، اور ایسے سافٹ ویئر کو فروغ دے رہے ہیں جو بغیر کسی حقیقی شخص کے، خود بخود بلیک میلنگ کے قابلِ یقین مواد تخلیق کر سکیں۔ اور جیسا کہ ڈیکارٹ خود دعویٰ کرتا ہے: "یہ ٹیکنالوجی تخیل کو حقیقت میں بدلنے کی لامتناہی صلاحیت رکھتی ہے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین